خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 506 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 506

506 خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور رحم بھی اس وقت جوش میں آئیں گے اور پھر قبولیت دعا کے نظارے بھی دیکھیں گے۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔کیونکہ جب پاک ہو کر سب کے لئے بخشش کی دعا کر رہے ہوں گے ، سب کینے اور بغض اور رنجشیں دلوں سے نکل رہی ہوں گی ، جب دلوں کے کینے ختم ہو رہے ہوں گے اور ایک پاک اور محبت کرنے والا معاشرہ جنم لے گا، جہاں ایک دوسرے سے محبت اور بھائی چارے کی فضا نظر آ رہی ہوگی تو پھر یہ دعائیں کرنے والے اللہ تعالیٰ کی بخشش کو مزید حاصل کرنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔پس یہ انتہائی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رؤوف اور رحیم کو جذب کرنے کے لئے اپنے ساتھ اپنے بھائیوں کے لئے بھی دعا کی جائے اور دلوں کو کینوں سے پاک کیا جائے۔اگر ہمارے دوسرے مسلمان بھائی یہ دعا سمجھ کر کریں تو جہاں اپنی بخشش کے سامان کر رہے ہوں گے وہاں احمدیوں کے لئے ان کے دلوں میں جو کینہ اور بغض بھرا ہوا ہے وہ بھی دور ہو گا۔ان کو بھی اللہ تعالیٰ زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے گا۔پس ہمارے مخالفین کو بھی جو بلاوجہ ادھر ادھر سے باتیں سن کر مخالفت میں آگے بڑھے ہوئے ہیں چاہیے کہ صرف دیکھا دیکھی مخالفت نہ کریں بلکہ غور کریں ، سوچیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی دعائیں سکھائی ہیں قرآن کریم سارے پڑھتے ہیں اس پر غور کریں۔وہ لوگ بھی اس رمضان سے فائدہ اٹھائیں اور امت کی حالت پر غور کریں کہ امت کی یہ حالت کیوں ہو رہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والوں کو آپ نے اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی خبر دی تھی۔اس پر غور کرتے ہوئے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ما نہیں اور جو لوگ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہلے مان کر ایمان میں سبقت لے جاچکے ہیں، ان کے لئے دعائیں کرتے ہوئے ان جیسا بننے کی کوشش کریں۔اللہ کرے کہ دوسرے مسلمانوں کو بھی یہ فہم اور ادراک حاصل ہو جائے۔بہر حال احمدیوں کو چاہئے کہ اپنے نمونے قائم کریں اور اس قرآنی تعلیم پر عمل کریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد ر کھوور نہ ہو نکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لئے ہے کہ با ہم اتحاد ہو۔برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرو۔اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی ایسا ہو۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو تو فرشتہ کی تو منظور ہی ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔kh5-030425