خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 492
خطبات مسرور جلد چهارم 492 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 ان دعاؤں کے بیان کرنے کا مقصد امت کو اس طرف توجہ دلانا تھا کہ مختلف قسم کے حالات پیدا ہوں تو اُن حالات کے پیش نظر قرآن کریم میں جو مختلف قسم کی دعائیں ہیں وہ دعائیں کرو۔یقینا اللہ تعالیٰ نے یہ مختلف قسم کی دعائیں قرآن کریم میں اس لئے جمع کی ہیں تا کہ ایک مومن بندہ ان سے فائدہ اٹھائے۔اور خالص ہو کر اس کی صفات کے حوالے سے، اس حوالے سے کہ اے خدا تو نے خود یہ دعا ئیں ہمیں سکھائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے جب اس سے دعائیں مانگے تو خدا تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جس کا میں نے گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے پید ایسے احسانات ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں جو اُس کے حضور خالص ہو کر جھکنے والے کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والے ہو تھی ہیں۔آج بھی میں اسی مضمون کو جاری رکھوں گا جو قرآن کریم میں سکھائی گئی دعاؤں کا مضمون ہے۔رمضان کے مہینے کی یہ بھی اہمیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس مہینے میں پہلے سے بڑھ کر اپنے بندے پر نظر رکھتا ہوں ، اس کی دعائیں قبول کرتا ہوں۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔پس ہمیں اُن اعمال کی ضرورت ہے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے تا کہ ہماری یہ معمولی کوششیں اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوں۔اللہ تعالیٰ ان دنوں میں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پہلے سے بڑھ کر ، عام حالات سے بڑھ کر اپنے بندے پر مہربان ہوتا ہے۔معمولی نیکیاں بھی بہت بڑے اجر پالیتی ہیں۔بھول چوک اور غلطیوں سے اللہ تعالیٰ صرف نظر فرماتا ہے۔پس ہر مومن کو ان دنوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا روزے اور عبادتوں کی وجہ سے شیطان جکڑ ا جاتا ہے۔اس کے آگے روکیں کھڑی ہو جاتی ہیں، ماحول ایسا بن جاتا ہے کہ شیطان کی کوئی پیش نہیں جاتی۔پس اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے لئے بڑی بدقسمتی کی بات ہو گی کہ وہ رمضان پائے ، وہ اپنی زندگی میں رمضان دیکھے اور پھر اپنے گناہ نہ بخشوائے۔اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانے کی طرف مزید کوشش نہ کرے۔آج پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مہینے میں داخل فرمایا ہے۔شیطان جکڑا ہوا ہے، نیکیوں کے کئی گنا بڑھ کر اجر مل رہے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک اس سے بھر پور فائدہ اٹھائے اور اٹھانے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی نیکیوں میں سے سب سے زیادہ اس کی عبادت، اس کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق نمازوں کے پڑھنے سے دلچسپی ہے۔اللہ تعالیٰ کو اس طرح نمازوں کی ادائیگی پسند ہے جس طرح اس نے بتایا ہوا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے