خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 341
خطبات مسرور جلد چهارم 341 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 کہ جب میں جہلم کے قریب پہنچا تو تخمینا دس ہزار سے زیادہ آدمی ہو گا کہ وہ میری ملاقات کے لئے آیا اور تمام سڑک پر آدمی تھے۔اور ایسے انکسار کی حالت میں تھے کہ گویا سجدے کرتے تھے اور پھر ضلع کی کچہری کے ارد گرد اس قدر لوگوں کا ہجوم تھا کہ حکام حیرت میں پڑ گئے۔گیارہ سو آدمیوں نے بیعت کی اور قریباً دوسوعورت بیعت کر کے اس سلسلے میں داخل ہوئی اور کرم دین کا مقدمہ جو میرے پر تھا خارج کیا گیا۔اور بہت سے لوگوں نے ارادت اور انکسار سے نذرانے دیئے اور تحفے پیش کئے۔فرماتے ہیں کہ : ” اور اس طرح ہم ہر ایک طرف سے برکتوں سے مالا مال ہو کر قادیان میں واپس آئے اور خدا تعالیٰ نے نہایت صفائی سے وہ پیشگوئی پوری کی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 263-264 پھر فرماتے ہیں کہ : "کرم دین جہلمی کے اس مقدمہ فوجداری کی نسبت پیشگوئی ہے جو اس نے جہلم میں مجھ پر دائر کیا تھا۔جس پیشگوئی کے یہ الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے رَبِّ كُلُّ شَيْ ءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِی وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِی اور دوسرے الہامات بھی تھے جن میں بریت کا وعدہ تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس مقدمہ سے مجھ کو بری کر دیا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 224) تو جہلم کے مقدمے کے بعد بلکہ اس کی کڑی ہے گورا دسپور میں کرم دین صاحب نے ایک مقدمہ کیا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : "کرم دین نام ایک مولوی نے فوجداری مقدمہ گورداسپور میں میرے نام دائر کیا اور میرے مخالف مولویوں نے اس کی تائید میں آتما رام اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں جا کر گواہیاں دیں اور ناخنوں تک زور لگایا اور ان کو بڑی امید ہوئی کہ اب کی دفعہ ضرور کامیاب ہوں گے اور ان کو جھوٹی خوشی پہنچانے کے لئے ایسا اتفاق ہوا کہ آتما رام نے اس مقدمہ میں اپنی نافہمی کی وجہ سے پوری غور نہ کی اور مجھ کو سزائے قید دینے کے لئے مستعد ہو گیا۔اُس وقت خدا نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ آتما رام کو اس کی اولاد کے ماتم میں مبتلا کرے گا۔چنانچہ یہ کشف میں نے اپنی جماعت کو سنا دیا اور پھر ایسا ہوا کہ قریباً ہمیں پچھپیں (20-25) دن کے عرصہ میں دو بیٹے اس کے مر گئے۔اور آخر یہ اتفاق ہوا کہ آتما رام سزائے قید تو مجھ کو نہ دے سکا۔اگر چہ فیصلہ لکھنے میں اس نے قید کرنے کی بنیاد بھی باندھی مگر اخیر پر خدا نے اس کو اس حرکت سے روک دیا لیکن تاہم اس نے سات سورو پہیہ جرمانہ کیا۔اس کی الگ تفصیل ہے کہ عدالت میں کس طرح جرمانہ ہوا۔بہر حال فرماتے ہیں کہ پھر ڈویژنل حج کی عدالت سے عزت کے ساتھ میں بری کیا گیا اور کرم دین پر سزا قائم رہی اور میرا جرمانہ واپس ہوا۔مگر آ تمارام کے دو بیٹے واپس نہ آئے۔پس جس خوشی کے حاصل ہونے کی کرم دین کے مقدمہ میں ہمارے مخالف مولویوں کو تمنا تھی وہ پوری