خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد چهارم 305 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء آئے ) جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ تو سب سے زیادہ اس نبی کی حفاظت اور نصرت فرماتا ہے۔بیسیوں واقعات ان کفار کی نظر میں پہلے بھی گزر چکے تھے۔وہ اس بات کے خود بھی گواہ تھے لیکن پھر بھی ان کو عقل نہ تھی۔ابو جہل جو اس سارے پروگرام کا سرغنہ تھا وہ بھول گیا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک تاجر کا حق دلوانے کے لئے ابو جہل کے دروازے پر گئے تھے تو کیا نظارہ اس نے دیکھا تھا کہ آپ کی مدد کے لئے دو خونخوار اونٹ آپ کے دائیں بائیں کھڑے تھے تا کہ وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔تو اس کی وجہ سے اس نے آپ کے کہنے کی فوراً تعمیل بھی کی اور اس تاجر کا قرضہ بھی دے دیا۔بہر حال جب منصوبہ بندی کر کے یہ سب لوگ آپ کے دروازے کے باہر گھیرا ڈال کر کھڑے تھے اور گھیراؤ کیا ہوا تھا تو آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لوگوں کی امانتیں دے کر ان کو یہ ہدایت دے رہے تھے کہ ان کو واپس لوٹا کر صبح آجانا اور تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ تا کہ کفار اگر دیوار پر سے جھانکیں اور دیکھیں تو یہی سمجھیں کہ میں لیٹا ہوا ہوں اور آپ ہجرت کیلئے تیاری کرنے لگے۔آپ نے حضرت علی کو یہ بھی فرمایا کہ دشمن تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچا سکے گا۔یہ یقین تھا آپ کو نہ صرف اپنی ذات کے بارے میں بلکہ اپنے ماننے والوں کے بارے میں بھی کہ یہ بچے ایمان والے ہیں۔آج کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ظاہر ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے عظیم نظارے نظر آنے ہیں اس لئے اے علی ! تم جو میرے دین پر مکمل ایمان لاتے ہو بے فکر رہو دشمن تمہیں کوئی بھی گزند نہیں پہنچا سکے گا۔پھر آپ بڑے آرام سے ان دشمنوں کے درمیان سے ہی نکل گئے۔نہ کوئی خوف اور نہ فکر کہ باہر دشمن کھڑا ہے اگر پکڑا گیا تو کیا ہوگا۔یہ تو خیر فکر تھی ہی نہیں کہ پکڑا جاؤں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اجازت سے یہ ہجرت ہو رہی تھی اسلئے دل اس یقین سے پُر تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ہی حفاظت فرمائے گا اور ہر قدم پر مددفرماتے ہوئے محفوظ رکھے گا۔مکہ سے نکلتے ہوئے آپکو بڑا صدمہ بھی تھا۔آپ نے یہ الفاظ کہے کہ مکہ ! تو مجھے ساری دنیا سے زیادہ عزیز ہے لیکن تیرے فرزند مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے۔خیر وہاں سے نکل کر آپ کو حضرت ابو بکر بھی راستے میں مل گئے (جن سے پروگرام پہلے ہی طے تھا) اور آپ انکو ساتھ لے کر غار ثور کی طرف چل پڑے۔وہاں پہنچ کر حضرت ابو بکر نے غار کو اچھی طرح صاف کیا تمام سوراخوں کو اچھی طرح بند کیا جو غار میں تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اب آپ اندر تشریف لے آئیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے اور بے فکر ہو کر حضرت ابو بکر کی ران پر سر رکھ کر سو گئے۔کوئی اور ہو تو فکر سے ایسے حالات میں نیند اڑ جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ شامل حال رہنے کا اس قدر یقین تھا کہ کسی kh5-030425