خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 178

خطبات مسرور جلد چهارم 178 خطبہ جمعہ 7 / اپریل 2006 ء انسان کی پیدائش کا مقصد تو بہت بڑا تھا۔اتنا بڑا مقصد کہ اگر اس کو انسان حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس دنیا کی جو نعمتیں ملتی ہیں وہ تو ملیں گی ہی، دنیا سے جانے کے بعد اخروی اور دائمی زندگی کا بھی حصہ ملے گا۔اگلے جہان میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا وارث بنے گا۔اس مقصد کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات : 57) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔پس اس آیت کی رو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہو جانا ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے۔کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا۔بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کئے اسی نے اس کی زندگی کا ایک مڈ عائھہرا رکھا ہے، خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مدعا بلا شبہ خدا کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ میں فانی ہو جانا ہی ہے“۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 414) تو یہ ہے انسان کی پیدائش کا مقصد جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کر دیا اور فرما دیا کہ کیونکہ تمہارا اس دنیا میں آنا بھی میری مرضی سے ہے اور دنیا سے جانا بھی میری مرضی سے ہوگا اس لئے تم وہی کام کرو جس کا میں نے حکم دیا ہے۔اور ہر انسان کو براہ راست تو اللہ تعالی حکم نہیں دیتا بلکہ اپنی سنت کے مطابق انبیاء بھیجتا آیا ہے جو مختلف قوموں میں آتے رہے اور اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے اور اس کی عبادت بجالانے کی تعلیم دیتے رہے۔اور یہ اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنے اور ایک خدا کے آگے جھکنے اور اس کی عبادت کرنے کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھی انسان کو دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اس کے جسمانی اعضاء اور طاقتیں بھی اور اس کی ذہنی صلاحیتیں بھی ایسی رکھی ہیں جو اسے دوسری مخلوق سے ممتاز کرتی ہیں۔پس یہ انسان کی حالت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب وہ اپنی صلاحیتوں، اپنی ذہنی اور kh5-030425