خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 138

خطبات مسرور جلد چهارم 138 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء آپ نے قائم کی۔دنیا میں کبھی اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعوی نبوت سے پہلے بھی آزادی ضمیر اور آزادی مذہب اور زندگی کی آزادی پسند فرماتے تھے اور غلامی کو نا پسند فرماتے تھے۔چنانچہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شادی کے بعد اپنا مال اور غلام آپ کو دے دیئے تو آپ نے حضرت خدیجہ کو فرمایا کہ اگر یہ سب چیزیں مجھے دے رہی ہو تو پھر یہ میرے تصرف میں ہوں گے اور جو میں چاہوں گا کروں گا۔انہوں نے عرض کی اسی لئے میں دے رہی ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں غلاموں کو بھی آزاد کر دوں گا۔انہوں نے عرض کی آپ جو چاہیں کریں میں نے آپ کو دے دیا، میرا اب کوئی تصرف نہیں ہے، یہ مال آپ کا ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلاموں کو بلایا اور فرمایا کہ تم سب لوگ آج سے آزاد ہو اور مال کا اکثر حصہ بھی غرباء میں تقسیم کر دیا۔جو غلام آپ نے آزاد کئے ان میں ایک غلام زید نامی بھی تھے وہ دوسرے غلاموں سے لگتا ہے زیادہ ہوشیار تھے، ذہین تھے۔انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا کہ یہ جو مجھے آزادی ملی ہے یہ آزادی تو اب مل گئی ، غلامی کی جو مہر لگی ہوئی ہے وہ اب ختم ہوگئی لیکن میری بہتری اسی میں ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہی ہمیشہ رہوں۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ نے مجھے آزاد کر دیا ہے لیکن میں آزاد نہیں ہوتا، میں تو آپ کے ساتھ ہی غلام بن کے رہوں گا۔چنانچہ آپ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہے اور یہ دونوں طرف سے محبت کا، پیار کا تعلق بڑھتا چلا گیا۔زید ایک مالدار خاندان کے آدمی تھے، اچھے کھاتے پیتے گھر کے آدمی تھے، ڈاکوؤں نے ان کو اغوا کر لیا تھا اور پھر ان کو بیچتے رہے اور بکتے بکاتے وہ یہاں تک پہنچے تھے تو ان کے جو والدین تھے رشتہ دار عزیز بھی تلاش میں تھے۔آخر ان کو پتہ لگا کہ یہ لڑکا مکہ میں ہے تو مکہ آگئے اور پھر جب پتہ لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں تو آپ کی مجلس میں پہنچے اور وہاں جا کے عرض کی کہ آپ جتنا مال چاہیں ہم سے لے لیں اور ہمارے بیٹے کو آزاد کر دیں، اس کی ماں کا رورو کے برا حال ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ میں تو اس کو پہلے ہی آزاد کر چکا ہوں۔یہ آزاد ہے۔جانا چاہتا ہے تو چلا جائے اور کسی پیسے کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا بیٹے چلو۔بیٹے نے جواب دیا کہ آپ سے مل لیا ہوں اتنا ہی کافی ہے۔کبھی موقع ملا تو ماں سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔لیکن اب میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا۔میں تو اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو چکا ہوں آپ سے جدا ہونے کا مجھے سوال نہیں۔ماں باپ سے زیادہ محبت اب مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔زید کے باپ اور چا وغیرہ نے بڑا زور دیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔زید کی اس محبت کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ kh5-030425