خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 6

خطبات مسرور جلد چهارم 6 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے بہترین تجارت یہ ہے کہ اس کی راہ میں مالی قربانی کرو۔اور اس زمانے میں کیونکہ نئی نئی ایجادیں بھی ہوگئی ہیں جیسا کہ میں نے کہا ہے اور دنیا ایک ہو جانے کی وجہ سے ترجیحات بھی بدل گئی ہیں تو جہاں جہاں بھی یہ مالی قربانی ہو رہی ہے یہ ایک جہاد ہے۔اسی طرح ہمارے ملکوں میں ایک کثیر تعداد ہے جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔افراد جماعت عموماً یا تو مالی لحاظ سے کمزور ہیں یا اوسط درجہ کے ہیں۔تو جب بھی ہم میں سے، جماعت کا کوئی فرد مالی قربانی کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کا اپنی جان کا بھی جہاد کر رہا ہوتا ہے۔بعض اوقات اپنے بچوں کی ضروریات کو بھی پس پشت ڈال کر قربانی کر رہا ہوتا ہے۔اس کی کئی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی روایات میں آتی ہیں اور آج کل بھی موجود ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی کرنے کی یہ مثالیں سوائے جماعت احمدیہ کے اور کہیں نہیں ملیں گی۔حضرت مسیح موعود کے زمانے کی بات ہے قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے ایک روایت کی ہے کہ وزیر آباد کے شیخ خاندان کا ایک نوجوان فوت ہو گیا۔اس کے والد نے اس کے کفن دفن کے لئے 200 روپے رکھے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنگر خانے کے اخراجات کے لئے تحریک فرمائی۔ان کو بھی خط گیا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رقم بھجوانے کے بعد لکھا کہ میرا نوجوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے میں نے اس کی تجہیز و تدفین کے واسطے مبلغ دوسوروپے تجویز کئے تھے جو ارسال خدمت کرتا ہوں اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کرتا ہوں۔یہ ہے وہ اخلاص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مریدوں نے دکھایا۔( قاضی محمد یوسف فاروقی احمدی قاضی خیل۔رسالہ ظہور احمد موعود صفحہ 70-71 مطبوعہ 30 /جنوری 1955ء) وہ ہر وقت اس سوچ میں رہتے تھے، اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب کوئی مالی تحریک ہو اور ہم قربانیاں دیں۔آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔اس زمانے میں مادیت پہلے سے بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی کا تو براہ راست اثر آپ کے صحابہ پر پڑتا تھا۔آج زمانہ اتنا دور ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدے کئے ہیں اس کے نظارے ہمیں دکھا رہا ہے۔کئی احمدی نوجوان ایسے ہیں جو اپنی خواہشات کو مارتے ہوئے اپنی جمع پونجی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں۔گزشتہ سال کی بات ہے پاکستان کی جماعتوں کے لئے جو ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا سال کے آخر میں kh5-030425