خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 84
خطبات مسرور جلد چهارم 84 خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء ستمبر میں یہ حرکت ہوئی تھی تو اُس وقت ہم نے کیا کیا تھا۔یہ جیسا کہ میں نے کہا ستمبر کی حرکت ہے یا اکتوبر کے شروع کی کہہ لیں۔تو ہمارے مبلغ نے اس وقت فوری طور پر ایک تفصیلی مضمون تیار کیا اور جس اخبار میں کارٹون شائع ہوا تھا ان کو یہ بھجوایا اور تصاویر کی اشاعت پر احتجاج کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے بارے میں بتایا کہ یہ ہمارا احتجاج اس طرح ہے ہم جلوس تو نہیں نکالیں گے لیکن قلم کا جہاد ہے جو ہم تمہارے ساتھ کریں گے۔اور تصویر کی اشاعت پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔اس کو بتایا کہ ضمیر کی آزادی تو ہو گی لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ دوسروں کی دلآزاری کی جائے۔بہر حال اس کا مثبت رد عمل ہوا۔ایک مضمون بھی اخبار کو بھیجا گیا تھا جو اخبار نے شائع کر دیا۔ڈینش عوام کی طرف سے بڑا اچھا رد عمل ہوا کیونکہ مشن میں بذریعہ فون اور خطوط بھی انہوں نے ہمارے مضمون کو کافی پسند کیا ، پیغام آئے۔پھر ایک میٹنگ میں جرنلسٹ یونین کے صدر کی طرف سے شمولیت کی دعوت ملی۔وہاں گئے وہاں وضاحت کی کہ ٹھیک ہے تمہارا قانون آزادی ضمیر کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مذہبی رہنماؤں اور قابل تکریم ہستیوں کو ہتک کی نظر سے دیکھو اور ان کی بہتک کی جائے۔اور یہاں جو مسلمان اور عیسائی اس معاشرے میں اکٹھے رہ رہے ہیں ان کے جذبات کا بہر حال خیال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔اور پھر ان کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس قدر حسین تعلیم ہے اور کیسا اُسوہ ہے اور کتنے اعلیٰ اخلاق کے آپ مالک تھے اور کتنے لوگوں کے ہمدرد تھے، کس طرح ہمدرد تھے خدا کی مخلوق سے اور ہمدردی رشفقت کے مظہر تھے۔چند واقعات جب ان کو بتائے کہ بتاؤ کہ جو ایسی تعلیم والا شخص اور ایسے عمل والا ہے اس کے بارے میں اس طرح کی تصویر بنانی جائز ہے؟ تو جب یہ باتیں ہمارے مشنری کی ہوئیں تو انہوں نے بڑا پسند کیا بڑا اسراہا۔اور ایک کارٹونسٹ نے برملا یہ اظہار کیا کہ اگر اس طرح کی میٹنگ پہلے ہو جاتی تو وہ ہرگز کارٹون نہ بناتے ، اب انہیں پتہ چلا ہے کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے۔اور ساروں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ٹھیک ہے ڈائیلاگ (Dialogue) کا سلسلہ چلتا رہنا چاہئے۔پھر صدر یونین کی طرف سے بھی پریس ریلیز جاری کی گئی جس کا مسودہ بھی سب کے سامنے سنایا گیا اور ٹی وی پر انٹرویو ہوا جو بڑا اچھا رہا۔پھر منسٹر سے بھی میٹنگ کی۔تو بہر حال جماعت کوشش کرتی ہے۔دوسرے ملکوں میں بھی اس طرح ہوا ہے۔تو بہر حال جہاں بنیاد تھی وہاں جماعت نے کافی کام کیا ہے۔اور کارٹون کی وجہ جو بنی ہے وہ یہ ہے کہ ڈنمارک میں ایک ڈینش رائٹر نے ایک کتاب لکھی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور قرآن جو مارکیٹ میں آچکی ہے۔اس کتاب kh5-030425