خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 533 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 533

533 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم پنے فضل سے ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے عطا کئے ہوئے ہیں۔پس اس فضل سے فائدہ اٹھاؤ۔اس میں اس طرف بھی اشارہ ہو گیا کہ ناجائز کاروبار، دھوکہ دہی کے کاروبار جو ہیں ان سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے جو نواہی ہیں اس سے بیچ کر ہی اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث بن سکتے ہو، ان کو کر کے نہیں۔پس اپنی ملازمتوں میں ، اپنے کاروباروں میں جائز اور نا جائز کے فرق کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھو۔یہ نہیں کہ ان لوگوں کی طرح ناجائز کاروبار کر کے اور کالا دھن کما کر اور سمگلنگ کر کے پھر حج پر چلے گئے اور سمجھ لیا کہ ہم پاک ہو گئے ہیں اور ہمارے پچھلے گناہ بخشے گئے۔جیسا کہ اس حدیث میں جو میں نے پڑھی تھی آتا ہے کہ جمعہ کفارہ ہے، یہ اس صورت میں کفارہ بنتا ہے جب انسان بڑے گناہوں سے بچے ، جب کبائر سے بچے۔اور پھر ان سے بچنے کیلئے اس آیت میں یہ بھی فرمایا کہ للہ تعالیٰ کا ذکر بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔اللہ کا ذکر کرنے والے ایک تو اللہ کا خوف رکھیں گے، نا جائز کام نہیں کریں گے اور یہ ذکر تمہارے دلوں کو اطمینان بھی بخشے گا۔ناجائز منافع خوری اور نا جائز کاروبار کی طرف جو توجہ ہے وہ نہیں رہے گی ، قناعت پیدا ہوگی۔اور ذکر ، پھر اس طرف بھی توجہ دلا رہا ہے کہ جمعہ پڑھ کر پھر نمازوں سے چھٹی نہیں ہوگی بلکہ اس کے بعد عصر کی نماز بھی ہے پھر مغرب کی نماز ہے پھر عشاء کی نماز ہے۔اور یہ سلسلہ پھر اسی طرح چلنا ہے ، اس طرف بھی ہر ایک کی توجہ رہنی چاہئے۔اور اس ذکر سے پھر فضل بڑھتے چلے جائیں گے اور چھوٹی موٹی غلطیوں اور کوتاہیوں کا کفارہ بھی ہوتا چلا جائے گا۔پس ہمیشہ اس طرف توجہ رکھو کہ ذکر کرنا ہے۔پھر اگلی آیت میں فرمایا کہ جن کے دل ہر وقت دنیاوی چیزوں کی طرف مائل رہتے ہیں، جھکے رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے والے نہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کا فہم اور ادراک ہی نہیں۔انہوں نے اپنی تجارتوں کو ہی اپنا خدا بنا لیا ہوا ہے۔اپنے کاروباروں کو اپنا خدا بنالیا ہوا ہے۔عبادتوں کی بجائے کھیل کود میں ان کا دل زیادہ لگا ہوا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ تاش کھیلنے والے گھنٹوں تاش کھیلتے رہیں تو انہیں وقت کے ضائع ہونے کا احساس نہیں ہوتا، تو فرمایا کہ جن کے دل ایمان سے خالی ہیں یا ایمان صرف منہ کی جمع خرچ ہے وہ عبادت کی طرف توجہ دینے والے نہیں ہیں، قربانیاں کرنے والے نہیں ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو صحابہ قربانیاں کر نیوالے تھے۔انہوں نے مال، جان ، وقت اور عزت ہر چیز کو اسلام کی خاطر قربان کر دیا تھا۔سوائے چند ایک منافقین کے جو جان بچاتے تھے، ان کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔پس جو تجارت اور کھیل کود کی طرف توجہ دینے والے ہیں یہ اس زمانے کے لوگ ہیں جبکہ مختلف طریقوں سے، دلچسپیوں سے شیطان ان کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان دلچسپیوں کے بے تحاشا سامان kh5-030425