خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 484

خطبات مسرور جلد چہارم 484 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 2006 راستے دکھاتا ہے کہ کسی طرح میرے بندے شیطان کے چنگل سے بچیں اور اس طرح آخرت کے عذاب سے بچ جائیں تو اس کے خالص عبد بنتے ہوئے اس کے حضور دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے۔آج میں نے چند قرآنی دعا ئیں چینی ہیں۔اب دیکھیں یہ بھی تو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے کہ ہمیں مختلف مواقع کی دعائیں سکھا دیں۔پہلے انبیاء کی دعائیں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہمیں سکھا دیں تا کہ ہم جہاں ان سے فیض اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں وہاں اپنی دنیا و آخرت سنوار نے والے بھی بن جائیں۔جب اللہ تعالیٰ ہم پر احسان فرماتے ہوئے اپنے انعامات سے نوازتا ہے تو اس پر متکبر ہونے کی بجائے فخر کرنے کی بجائے اللہ کے حضور جھکنا چاہئے۔کسی کو کوئی اعلیٰ ملا زمت مل جائے تو اس کا دماغ عرش پہ پہنچ جاتا ہے۔کسی کو فائدہ مند کاروباریل جائے تو اس کے پاؤں زمین پر نہیں سکتے۔کسی کو اچھے خاندان میں پیدا ہونے پر فخر کھائے جارہا ہے۔کسی کو اپنی دماغی صلاحیتوں پر بڑا فخر ہوتا ہے۔پھر وہ نہ بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ایک نیک بندے کی مثال دیتے ہوئے ایک دعا سکھاتا ہے کہ ان چیزوں پر فخر کرنے کی بجائے اللہ کے آگے جھکو گے تو اس کے فضلوں کے وارث بنو گے۔یہ سورۃ یوسف کی آیت ہے۔فرمایارَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَأْوِيْلِ الْاحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَّالْحِقْنِي بِالصَّلِحِيْنَ (يوسف: 102) اے میرے رب تو نے مجھے امور سلطنت میں سے حصہ دیا اور باتوں کی اصلیت سمجھنے کا علم بخشا۔اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو دنیا و آخرت میں میرا دوست ہے، مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زمرے میں شمار کر۔یعنی یہ جو سب نعمتیں مجھے عطا کی ہیں تیرے اس سلوک کی آئینہ دار ہیں کہ میرے تیری طرف صدق اور سچائی سے بڑھنے کو تو نے قبول کیا اور مجھے یہ مقام عطا فر مایا اور میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح دنیا میں یہ دوستی کے نظارے دکھائے آخرت میں بھی تو میرا دوست ہو گا۔اسلئے میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے کامل فرمانبرداروں کی حالت میں وفات دینا تا کہ آخرت میں بھی میرا ان لوگوں کے ساتھ جوڑ ہو جو صالحین ہیں۔تیرا قرب پانے والے ہیں۔جنکے مقام ہر آن ، ہر وقت ، ہر لمحہ جنت میں بلند ہوتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ دعا صرف ہمیں ایک واقعہ کی صورت میں بیان نہیں فرمائی بلکہ اسلئے بیان کی ہے کہ اس پر عمل کرنے کیلئے مومن کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے تاکہ نیک اعمال کر کے وہ بھی صالحین کے گروہ میں شمار ہو سکے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنی رحمانیت کے نظارے دکھاتے ہوئے تمہارے لئے یہ جو زمین و آسمان پیدا کیا ہے اس پہ غور کرو۔ستارے ہیں، چاند ہے، سورج ہے، فضا میں مختلف قسم کی گیسز