خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 471

471 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم حکومت وقت کی پرستش اور اطاعت گویا رومی حکومت کا مذہب بن چکا تھا۔یہ بجا کہ دیگر مذاہب بھی موجود تھے مگر وہ اپنے مذہب کے باوجود اس نئی عوامی روش کے پابند ہو چکے تھے۔لیکن شہنشاہیت رو ما دنیا کوسکون نہ دے سکی۔چنانچہ مشرقی مذاہب اور مصر، شام اور ایران کی تو ہم پرستی نے رومی سلطنت میں نفوذ شروع کیا اور مذہبی لوگوں کی اکثریت کو زیر اثر کر لیا۔ان تمام مذاہب کی مہلک خرابی یہ تھی کہ وہ کئی پہلوؤں سے قابل شرم حد تک گر چکے تھے۔عیسائیت جس نے چوتھی صدی میں سلطنت روما کو فتح کیا تھا، رومن اقتدار اپنا چکی تھی۔اب عیسائیت وہ خالص فرقہ نہ رہا تھا جس کی تعلیم اسے تین صدیاں قبل دی گئی تھی ، وہ سراسر غیر روحانی تمول پسند اور مادیت زدہ ہو چکی تھی۔پھر کیسے چند ہی سالوں میں اس حالت میں ایک انقلاب پیدا ہو گیا ؟ ہاں یہ کیسے ہوا کہ 650 ء میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ) دنیا کا ایک بہت بڑا خطہ پہلے کے مقابل پر ایک مختلف دنیا میں تبدیل ہو گیا۔بلا شبہ یہ تاریخ انسانی کا ایک نہایت شاندار باب ہے۔پھر یہ انقلاب آگے بڑھا انتہا پرست عیسائیوں اور مستشرقین کی مخالفانہ رائے کے باوجود ان۔۔گہرے اثرات میں کوئی کمی نہیں آسکتی جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی نے تاریخ عالم پر ثبت کئے۔ماننا پڑتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) انسان کے برپا کردہ انقلاب کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔(Pringle Kennedy۔'Arabian Society at the time of Muhammad'۔pages 8,10,18,21) ایس پی سکاٹ لکھتے ہیں کہ اگر مذہب کا مقصد اخلاق کی ترویج، برائی کا خاتمہ، انسانی خوشی و لک خوشحالی کی ترقی اور انسان کی ذہنی صلاحیتوں کا جلا ہے اور اگر نیک اعمال کی جزا اسی بڑے دن ملنی ہے جب تمام بنی نوع انسان قیامت کے دن خدا کے حضور پیش کئے جائیں گے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بلاشبہ خدا کے رسول تھے ، ہر گز بے بنیاد اور بے دلیل ( دعوی ) نہیں ہے۔(S۔P۔Scott, History of The Moorish Empire in Europe۔' Page 126) کافی حوالے ہیں لیکن میں مختصر کرتا ہوں۔World Faith"، Ruth Cranston" میں لکھتے ہیں کہ محمد عربی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کا آغاز نہیں کیا۔ہر جنگ جو انہوں نے لڑکی مدافعانہ تھی۔وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اور ایسے اسلحہ اور طریق سے لڑے جو اس زمانے کا رواج تھا۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چودہ کروڑ ( یہ 1950ء کے قریب کی پرانی بات ہے ) عیسائیوں میں سے جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کر دیا ہو، کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو ہلاک کیا ہو۔ساتویں صدی کے تاریکی کے دور میں جب لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہور ہے ہوں، عرب کے نبی کے ہاتھوں ہونے والی ان ہلاکتوں کا آج کی روشن بیسویں صدی کی ہلاکتوں سے مقابلہ کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔جو مل انکیوئز یشن (Inquisition) اور صلیبی جنگوں کے زمانے میں