خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 465 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 465

خطبات مسرور جلد چهارم 465 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 تھا اس کو کفار کی طرف سے اسلام کے راستے میں دکھ دیا جاتا تھا۔بعض کو قتل کر دیا جا تا تھا اور بعض کو قید کر دیا جا تا تھا۔پس ہم نے اس وقت تک جنگ کی کہ مسلمانوں کی تعداد اور طاقت زیادہ ہوگئی اور نومسلموں کے لئے فتنہ نہ رہا۔اس کے بعد جب کفار کی طرف سے فتنہ ختم ہو گیا تو بات ختم ہوگئی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا كُوْنُوْا قَوَّامِيْنَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴾ (المائدة آیت 9) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو، یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔اللہ یقیناً اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔پس یہ انصاف تھا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ایک انقلاب پیدا کیا اور بعد میں بھی یہ انقلاب پیدا ہوا۔اگر صحابہ کی زندگیوں کو دیکھیں ، ان کے جائزے لیں تو پتہ لگتا ہے کہ جو انقلاب ان میں آیا وہ زبر دستی دین بدلنے سے نہیں آتا بلکہ اس وقت آتا ہے جب دل تبدیل ہو جائیں۔اس وقت آتا ہے جب دشمنوں سے بھی ایسا حسن سلوک ہو کہ دشمن بھی گرویدہ ہو جائے۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ جو شدید ترین مخالف اسلام تھا اور جو فرار ہو گیا۔جب اس کی بیوی نے اس کو واپس لانے کے لئے آپ سے معافی کی درخواست کی اور آپ نے معاف فرما دیا تو پھر ان میں ایسا انقلاب آیا جو تلوار کے زور سے نہیں لایا جا سکتا۔ایمان میں وہ ترقی ہوئی جو بغیر محبت کے نہیں ہو سکتی۔اخلاص سے اس طرح دل پر ہوئے جو بغیر محبت کے نہیں ہو سکتے۔قربانی کے معیار اس طرح بڑھے جو دلوں کے بدلنے کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتے۔انہوں نے اسلام کی خاطر جو غیرت دکھائی وہ اس تعلیم کو سمجھنے سے ہی پیدا ہوسکتی ہے۔اور پھر صحابہ نے محبت اور اسلام کی غیرت کے ایسے ایسے نمونے دکھائے کہ تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے۔یہی عکرمہ جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، ان کے بارہ میں آتا ہے کہ پہلے ہر لڑائی میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑا اور اپنی کوششیں اسلام کو مٹانے کے لئے صرف کر دیں بالآخر جب مکہ فتح ہوا تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کو اپنے لئے موجب ذلت سمجھ کر مکہ سے بھاگ گیا۔اور جب وہ مسلمان ہو گئے تو اخلاص کا یہ حال تھا کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں انہوں نے باغیوں کا قلع قمع کرنے میں بے نظیر جانثاریاں دکھائیں۔اور کہتے ہیں کہ جب ایک جنگ میں سخت گھمسان کا رن پڑا اور لوگ اس طرح کٹ کٹ کر گر رہے تھے جیسے درانتی کے سامنے گھاس کتا ہے، اُس وقت عکرمہ ساتھیوں کو لے کر عین قلب لشکر میں جا گھسے بعض لوگوں نے منع کیا کہ اس وقت لڑائی کی حالت سخت خطرناک ہو رہی ہے اور اس طرح دشمن کی فوج میں گھسنا ٹھیک نہیں ہے۔لیکن عکرمہ نہیں مانے