خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 454

454 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم صاحب کی شہادت قلمبند کر لو۔ڈاکٹر صاحب کی شہادت پر ریڈر دستخط کرانے گیا تو مجسٹریٹ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کے خرچے کا کاغذ بھی تیار کر لو اور کمرہ عدالت میں آکر دونوں پر دستخط کر دیئے۔اور خرچہ دلا کر جانے کی اجازت دے دی۔باہر آ کر ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا : اندر! دیکھا اسلام کا خدا، اس کی نصرت اور معجزات کیا عجیب شان رکھتے ہیں۔تابعین احمد جلد سوم با رسوم صفحه 15-16 ڈاکٹر صاحب کے بارے میں ہی ایک اور روایت ہے۔یہ انہی بابا اندر کی ہے کہ آپ اکثر دعا کرتے کہ میرا بیٹا ڈاکٹر حبیب اللہ شاہ انڈین میڈیکل سروس میں آ جائے۔انہوں نے عرض کیا کہ ایسی ترقی کے لئے ولایت میں تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔فرمایا کہ ہمارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے جنگ عظیم دوئم میں خدمات سرانجام دینے کی درخواست دے دی اور ان کو ملازمت میں لے لیا گیا۔جب آپ والد صاحب کی ملاقات کے لئے آئے۔تو پوچھنے پر بتایا کہ کندھوں پر کراؤن ، آئی ایم ایس ہو جانے کی وجہ سے ہیں۔تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو! میرے بیٹے کو میرے خدا نے آئی ایم ایس کر دیا اور میری دعا قبول کر لی۔تابعین احمد جلد سوم با رسوم صفحہ 16) ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ آپ دوا کے ساتھ دعا بھی کرتے ہیں۔حکیم محمد امین صاحب نے لکھا ہے کہ ایک احمدی لڑکی کی تدفین کے موقع پر ایک غیر احمدی معمر دوست ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب کو بہت دعائیں دینے لگے۔انہوں نے بتایا کہ آس پاس کی احمدی جماعتوں کے قیام میں ڈاکٹر صاحب کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔آپ بہت بزرگ اور تہجد گزار تھے۔ہر جمعہ کے روز آپ ایک قربانی کر کے تقسیم کرتے تھے۔مریض دُور دُور سے علاج کے لئے آتے تھے کیونکہ مشہور تھا کہ آپ دوا کے ساتھ جو دعا کرتے ہیں اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے۔( تابعین احمد جلد سوم با رسوم صفحہ 15) آج بھی یہی نمونہ ہمارے احمدی ڈاکٹر دکھاتے ہیں اور دکھانا بھی چاہئے کیونکہ شافی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اس لئے اس شافی خدا سے ہمیشہ چھٹے رہنا چاہئے۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ : فیضان ایزدی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت را شدہ کے طفیل اور تبلیغ احمدیت کی برکت سے میرے اندر ایک ایسی روحانی کیفیت پیدا کر دی تھی کہ بعض اوقات جو کلمہ بھی میں منہ سے نکالتا تھا اور مریضوں اور