خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 417
417 خطبہ جمعہ 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم سردار نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم خاں ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا تھا اور کوئی صورت جانبری کی دکھائی نہیں دیتی تھی ، گویا مردہ کے حکم میں تھا۔اس وقت میں نے اس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔تب میں نے جناب الہی میں عرض کی کہ یا الہی ! میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِه یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے۔تب میں خاموش ہو گیا۔بعد اس کے بغیر توقف کے یہ الہام ہوا إِنَّكَ أَنْتَ الْمَجَاز یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔تب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی تو خدا تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر میں سے نکل کر باہر آیا اور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیا تھا کہ مدت دراز کے بعد وہ اپنے اصلی بدن پر آیا اور تندرست ہو گیا اور زندہ موجود ہے۔“ انہوں نے بعد میں لمبی عمر پائی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 230,229) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : 5 / اگست 1906ء کو ایک دفعہ نصف حصہ اسفل بدن کا میرا بے حس ہو گیا اور ایک قدم چلنے کی طاقت نہ رہی۔یعنی جو نچلا دھڑ تھا وہ بے حس ہو گیا اور ٹانگیں بالکل سہار نہیں سکتی تھیں اور فرماتے ہیں۔کہ اور چونکہ میں نے یونانی طبابت کی کتابیں سبقاً سبقاً پڑھی تھیں اس لئے مجھے خیال گزرا کہ یہ فالج کی علامات ہیں۔ساتھ ہی سخت درد تھی۔دل میں گھبراہٹ تھی کہ کروٹ بدلنا مشکل تھا۔رات کو جب میں بہت تکلیف میں تھا تو مجھے شماتت اعداء کا خیال آیا مگر محض دین کے لئے نہ کسی اور امر کے لئے۔تب میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ موت تو ایک امر ضروری ہے مگر تو جانتا ہے کہ ایسی موت اور بے وقت موت میں شامت اعداء ہے۔تب مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ الہام ہوا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرِ۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْزِى الْمُؤْمِنِین یعنی خدا ہر چیز پر قادر ہے اور خدا مومنوں کو رسوا نہیں کیا کرتا۔پس اسی خدائے کریم کی مجھے قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو اس وقت بھی دیکھ رہا ہے کہ میں اس پر افتراء کرتا ہوں یا سچ بولتا ہوں کہ اس الہام کے ساتھ ہی شاید آدھ گھنٹہ تک مجھے نیند آ گئی اور پھر جب یکد فعہ آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ مرض کا نام ونشان نہیں رہا۔تمام لوگ سوئے ہوئے تھے اور میں اٹھا اور امتحان کے لئے چلنا شروع کیا تو ثابت ہوا کہ میں بالکل تندرست ہوں۔تب مجھے اپنے قادر خدا کی قدرت عظیم کو دیکھ کر رونا آیا کہ کیسا قادر ہمارا خدا ہے اور ہم کیسے خوش نصیب ہیں کہ اس کی کلام قرآن شریف پر ایمان لائے اور