خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iv of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page iv

iii نظارے ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس مخالفت کے بعد ہر جگہ پر جماعت احمدیہ نے ترقی کی ہے۔1974 ء میں ان لوگوں نے پاکستان میں جماعت کے خلاف کیا کچھ کرنے کی کوششیں نہیں کیں لیکن کیا جماعت کی ترقی رک گئی ؟ پھر اس فرعون سے بھی بڑا فرعون آیا اُس نے کہا پہلا تو بے وقوف تھا، صحیح داؤ استعمال کر کے نہیں گیا۔کچھ کمیاں، خامیاں ،سقم چھوڑ گیا ہے ، میں اس طرح انہیں پکڑوں گا کہ احمدیوں کے خلیفہ سمیت تمام جماعت تو بہ کرتے ہوئے میرے قدموں میں گر پڑے گی ، اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا۔تو کیا اس کی خواہش پوری ہوگئی ؟ خواہش پوری ہونے کا کیا سوال ہے، احمدیوں نے عشق رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم میں سرشار ہوتے ہوئے اس کلمہ کی حفاظت میں جس کو دشمن نے ہم سے چھینا چاہا تھا پاکستانی جیلوں کو بھر دیا مگر کلمہ اپنے سینے سے نہیں اتارا۔کیا اس نظارے نے غیروں کے دل نرم کرتے ہوئے غیروں کو احمدیت کی طرف مائل نہیں کیا ؟ کئی سعید فطرت مائل ہوئے اور کئی سعید روحیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں آگئیں۔اور ان فرعونوں کا کیا حال ہوا؟ ایک فرعون کو اس کے اپنے ہی پروردہ نے پھانسی پر چڑھا دیا اور دوسرے کو اللہ تعالیٰ نے خدا کے بندے اور اس کی جماعت کی دعاؤں کو سنتے ہوئے ہوا میں اڑا دیا۔یہ ہے احمدیت کا خدا جس کا ادراک ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے آج کروایا ہے، جس کے اس وعدے کو ہم نے ہر آن پورے ہوتے دیکھا ہے کہ میں اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہوں۔آج بھی وہی خدا جماعت احمدیہ کی حفاظت کے لئے کھڑا ہے۔آج بھی وہ اپنے بندے اور اپنے مسیح کی جماعت کی دعاؤں کو سنتا ہے۔آج بھی تم ایسے نظارے دیکھو گے کہ جو دشمن ان دعاؤں کی لپیٹ میں آئے گا اس کے ٹکڑے ہوا میں بکھرتے چلے جائیں گے۔اگر حکومتیں کھڑی ہوں گی تو وہ بکھر جائیں گی، اگر تنظیمیں کھڑی ہوں گی تو وہ پارہ پارہ