خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 376

376 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم کنٹرول نہیں ہے تو بہتر ہے پھر جلسے میں شامل نہ ہوں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسے کو خالصہ لکھی جلسہ قرار دیا ہے اس لئے ہر آنے والا یہاں اس سوچ کے ساتھ آئے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سنا اور انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجشیں کبھی پیدا نہیں ہونے دینی اور اپنی برداشت کو بڑھانا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسلام کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ انسان بیکار اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔پس ہمیشہ یادرکھیں کہ ہم یہاں اسلام سیکھنے اور اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کے عہد کی تجدید کرنے کے لئے آئے ہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدیوں کو مٹانے کے لئے ایک دوسرے سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آنا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔پس ان دنوں میں کوئی اگر بری بات بھی دیکھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے پیش نظر صبر کریں اور ہمیشہ ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔اس سے بھی بدیاں دور ہوں گی ، اس سے بھی آپ کے اخلاق مزید اور بہتر ہوں گے۔بعض دفعہ بعض باتیں تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں اور خاص طور پر جب ایسی جگہ ہوں جہاں بہت سے لوگ ہوں تو شرمندگی کی وجہ سے انسان زیادہ غصے میں آجاتا ہے، زیادہ غصے کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔لیکن اس ماحول کو پر امن رکھنے کے لئے ہر ایک کو حو صلے اور صبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ بات جتنی بڑھائیں، ماحول کو خراب کرتے چلے جائیں گے۔اس ضمن میں ایک لطیفہ میں آپ کو سناتا ہوں جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض دفعہ کس طرح اپنے صحابہ کے اس قسم کے جوش کو جو غصہ کی وجہ سے ہوتا تھا دھیما کیا کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کتے بہت ہو گئے ، ان کی وجہ سے شور وغل رہتا تھا۔پیر سراج الحق صاحب نے بہت سے کتوں کو زہر دے کر مارڈالا۔اس پر بعض لڑکوں نے پیر صاحب کو چڑانے کے واسطے ان کا نام پیر گتے مار رکھ دیا۔پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں شا کی ہوئے کہ لوگ مجھے گتے مار کہتے ہیں۔حضرت صاحب نے تقسم کے ساتھ فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے۔دیکھیں حدیث شریف میں میرا نام ( حضرت مسیح موعود اپنے بارے میں بتاتے ہیں ) سور مارلکھا ہے، کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے کہ يَقْتُلُ الْخِنْزِيْرَ پیر صاحب اس پر بہت خوش ہو کر چلے آئے۔اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ذکر حبیب حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 162-163) تو دیکھیں کس خوبصورتی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے غصے کو دور فرما دیا۔پس اس ماحول میں جو کہ خالص روحانی ماحول تصور کیا جاتا ہے اگر کوئی غصہ دلانے والی بات سنیں بھی تو ٹال کر