خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 330

330 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم پھر آپ اس مقدمے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”یہ مقدمہ اس طرح پیدا ہوا کہ ایک شخص عبدالحمید نام (جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ) کو بعض عیسائیوں نے جوڈا کٹر ہنری مارٹن کلارک سے تعلق رکھنے والے تھے سکھلایا کہ وہ عدالت میں یہ اظہار دے کہ اس کو مرزا غلام احمد نے یعنی اس راقم نے حضرت مسیح موعود اپنے بارے میں فرماتے ہیں )۔قادیان سے اس غرض سے بھیجا ہے کہ تا ڈاکٹر کلارک کو قتل کر دے۔اور نہ صرف سکھلایا بلکہ دھمکی بھی دی کہ اگر وہ ایسا اظہار نہیں دے گا تو وہ قید کیا جائے گا۔اور ایک یہ بھی دھمکی دی کہ اس کا فوٹو لے کر اس کو کہا گیا (اس کی تصویر کھینچی گئی اور کہا گیا کہ اگر وہ بھاگ بھی جائے گا تو اس فوٹو کے ذریعہ سے پھر پکڑا جائے گا۔چنانچہ اس نے مجسٹریٹ ضلع امرتسر کے سامنے یہ اظہار دے دیا اور وہاں سے میری گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری ہوا۔اور حضور فرماتے ہیں کہ: میں اس جگہ ناظرین کی پوری دلچسپی کے لئے صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے حکم کی نقل ذیل میں لکھتا ہوں۔اور وہ یہ ہے ”عبدالحمید اور ڈاکٹر کلارک کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے عبد الحمید کو ڈاکٹر کلارک ساکن امرتسر کے قتل کرنے کی ترغیب دی۔اس بات کے یقین کرنے کے لئے وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد مذکور نقض امن کا مرتکب ہوگا یا کوئی قابل گرفت فعل کرے گا جو باعث نقض امن اس ضلع میں ہوگی۔اس بات کی خواہش کی گئی ہے کہ اس سے حفظ امن کے لئے ضمانت طلب کی جائے۔واقعات اس قسم کے ہیں کہ جس سے اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ کا شائع کرنا زیر دفعہ 14 ضابطہ فوجداری ضروری معلوم ہوتا ہے۔لہذا میں اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کرتا ہوں اور اس کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ آکر بیان کرے کہ کیوں زیر دفعہ (فلاں فلاں جو بھی تھی )۔" حفظ امن کے لئے ایک سال کے واسطے ہیں ہزار روپیہ کا مچلکہ اور ہیں ہزار روپیہ کی دو الگ الگ ضمانتیں اس سے نہ لی جائیں۔اس پہ مجسٹریٹ نے دستخط کئے تھے۔اس حکم کی تاریخ یکم تمبر 1897ء تھی اور آپ فرماتے ہیں کہ اس وارنٹ سے مطلب یہ تھا کہ تا مجھے گرفتار کر کے حاضر کیا جائے۔اور سزا سے پہلے گرفتاری کی ذلت پہنچائی جائے۔مگر یہ تصرف غیبی کس قدر ایک طالب حق کے ایمان کو بڑھاتا ہے کہ باوجود یکہ امرتسر سے ایسا وارنٹ جاری ہوا۔مگر خدا تعالیٰ نے جیسا کہ مندرجہ بالا الہامات میں اس کا وعدہ تھا اس وارنٹ سے بھی عجیب طور پر محفوظ رکھا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر حکم کے مطابق یہ وارنٹ عدالت سے جاری ہو جاتا تو قبل اس کے کہ 7 / اگست 1897 ء کا حکم انتقال مثل کے لئے نفاذ پا تا وارنٹ کی تعمیل ہو جاتی۔کیونکہ امرتسر اور قادیان میں صرف 35 کوس (35 میل) کا فاصلہ ہے۔پھر فرمایا: ” اور وہ حکم جو 7 اگست 1897ء کو مجسٹریٹ ضلع امرتسر نے اس مقدمے کے بارہ میں دیا