خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد چهارم 317 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ صرف دعوئی ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ میں آسمانی نشانوں سے یا علمی معارف کے نشانوں سے اور ہر قسم کی تائید و نصرت تیرے لئے دکھاؤں گا۔بلکہ ہم نے دیکھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مسیح و مہدی کے لئے بے شمار نشانات دکھائے جو بڑی شان سے آپ کی تائید میں اپنی چمک دکھا رہے ہیں اور دکھاتے رہے ہیں۔اس وقت میں چند ایک کا ذکروں گا۔سب سے پہلے تو ایک ایسا نشان ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرے مہدی کے لئے ایک ایسا نشان ہو گا جو دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔اور یہ ایک ایسا تائیدی نشان ہے جو آسمان پر ظاہر ہوا اور چاند اور سوج کو گرہن لگا کر آپ کے مددگار کے طور پر اللہ تعالیٰ نے کھڑا کر دیا۔پھر طاعون کا نشان ہے۔آپ کی سچائی کے مددگار کے طور پر ظاہر ہوا۔زلزلوں کا نشان ہے۔علمی میدان میں آپ کے بہت کارنامے ہیں۔ایک اسلامی اصول کی فلاسفی کے مضمون کا ہے۔خطبہ الہامیہ ہے۔تفاسیر ہیں۔پھر دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملانے کے نشانات ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے اپنے وعدے کے مطابق مالی ضرورت کے اپنے وقت پر پورا ہونے کے نشانات ہیں۔پھر لوگوں کے دلوں کو بغیر کسی انسانی کوشش کے آپ کی طرف پھیر کر اللہ تعالیٰ نے نشانات دکھائے۔غرض کہ بے شمار نشانات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آپ کے لئے تائید و نصرت کا پتہ دیتے ہیں۔ان میں سے سب کا تو مشکل ہے لیکن چند ایک کا میں ذکر کروں گا۔سورج گرہن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اور مجملہ نشانوں کے ایک نشان خسوف و کسوف رمضان میں ہے۔کیونکہ دار قطنی میں صاف لکھا ہے کہ مہدی موعود کی تصدیق کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک نشان ہوگا کہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔چنانچہ وہ گرہن لگ گیا اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مجھ سے پہلے کوئی اور بھی ایسا مدعی گزرا ہے کہ جس کے دعوی کے وقت میں رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن ہوا ہو۔سو یہ ایک بڑا بھاری نشان ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ظاہر کیا۔“ گرہن تو لگتے رہے لیکن کبھی بھی ایسا موقع نہیں آیا کہ اس وقت کوئی دعویٰ موجود ہو۔اب چاند اور سورج گرہن پر اس وقت کے علماء تو یہ بحث کرتے رہے، اس روایت کے بارے میں بھی کہ اس کے بعض راوی کمزور ہیں۔kh5-030425