خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 22

خطبات مسرور جلد چهارم 22 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء ہوں گی )۔جو نہی حضور نے اس کے ایسے کلمات سنے حضور کا چہرہ سرخ ہو گیا اور حضور نے غصے سے اس کو فرمایا کہ فی الفور یہاں سے دور ہو جاؤ ، ایسا نہ ہو تمہاری وجہ سے ہم پر بھی عذاب آ جاوے۔چنانچہ وہ اٹھ کر چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور عرض کی کہ وہ تو بہ کرتا ہے، اسے معاف فرمایا جائے۔جس پر حضور نے اسے بیٹھنے کی اجازت دی۔چوہدری نذرمحمد صاحب مرحوم کہتے تھے کہ جب یہ واقعہ انہوں نے دیکھا تو وہ دل میں سخت نادم ہوئے کہ اتنی سی بات پر حضور نے اتنا غصہ منایا ہے۔حالانکہ اُن کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو پوچھتے تک نہیں اور اپنے سسرال کی پرواہ نہیں کرتے۔یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔وہ کہتے تھے کہ انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے تو بہ کی اور دل میں عہد کیا کہ اب جا کر اپنی بیوی سے معافی مانگوں گا اور آئندہ بھی اس سے بدسلوکی نہ کروں گا۔چنانچہ وہ فرماتے تھے کہ جب وہاں سے وہ واپس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی کے لئے کئی تحائف خریدے اور گھر پہنچ کر اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس کے آگے تحائف رکھ کر چھلی بدسلوکی کی ان سے منت کر کے معافی مانگی۔وہ حیران ہو گئی کی ایسی تبدیلی ان میں کس طرح سے پیدا ہوگئی ہے۔جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے طفیل ہے تو وہ حضور کو بید و بے شمار دعائیں دینے لگی کہ حضور نے اس کی تلخ زندگی کو راحت بھری زندگی سے مبدل کر دیا ہے۔(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 1 صفحہ 6-7) اصل میں تو یہ عورت کا وہ حق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا لیکن مسلمان اس کو بھول چکے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوبارہ اسے قائم فرمایا۔پس سب سے زیادہ اسلام میں عورت کا مقام ہے جس کی قدر کی گئی ہے۔مغرب تو صرف عورت کے حقوق کا شور مچاتا ہے۔پھر حضرت حافظ حامد علی صاحب کا نمونہ ہے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ہر شخص اپنی بعض کمزوریوں یا ہم عصری کی وجہ سے کم از کم اپنے علاقے اور نواح میں خاص عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔حافظ صاحب ایک زمیندار خاندان کے فرد تھے اور دولت و مال کے لحاظ سے آپ کا مرتبہ بلند نہ تھا بلکہ وہ غریب تھے۔مگر اس کے باوجود اپنی نیکی اور دینداری کی وجہ سے اپنے گاؤں اور نواح میں ہمیشہ عزت و محبت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔اور آج ہم جو فیض اللہ چک اور تھہ غلام نبی وغیرہ دیہات میں احمدیت کی رونق اور اثر کو دیکھتے ہیں اس میں حافظ صاحب کی عملی زندگی کا بہت بڑا دخل ہے۔وہ ایک خاموش واعظ تھے اور مجسم تبلیغ تھے۔انہیں دیکھ کر خواہ مخواہ حضور کی صداقت کا یقین ہوتا تھا اور اندر ہی اندر محبت کا جذ بہ بڑھتا تھا۔kh5-030425