خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 17
خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء 17 (2 خطبات مسرور جلد چهارم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ بیعت کرنے والوں میں ایک عظیم انقلاب فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2006ء(13 صلح 1385 حش) مسجد اقصی ، قادیان دارالامان تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی: وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (سورة الجمعة آيت4) اس آیت کا ترجمہ ہے اور انہیں میں سے دوسروں کی طرف بھی مبعوث کیا ہے جو ابھی ایمان نہیں لائے۔( جو نبی کا ذکر چل رہا ہے )۔وہ کامل غلبے والا اور حکمت والا ہے۔یہ آیت جب نازل ہوئی تو ایک صحابی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں جو درجہ تو صحابہ کا رکھتے ہیں لیکن ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔اس شخص نے یہ سوال تین دفعہ دو ہرایا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی ہم میں بیٹھے ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا یعنی زمین سے ایمان بالکل ختم ہو گیا تو ان میں سے ایک شخص اس کو واپس لائے گا، دوسری جگہ رجال" کا لفظ بھی ہے یعنی اشخاص واپس لائیں گے۔(بخارى كتاب التفسير سورة الجمعة۔۔۔۔۔حديث نمبر 4897) تو یہ آیت اور یہ حدیث ہم میں سے اکثر نے سنی ہوئی ہے، پڑھتے بھی ہیں۔لیکن آج میں اس حوالے سے نمونے کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند صحابہ کا ذکر کروں گا۔جنہوں kh5-030425