خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد چهارم 91 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء رویے درست کریں۔ایسے رویے اور ایسے رد عمل ظاہر کریں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کو دنیا کے سامنے رکھیں، ان کو دکھا ئیں۔تو یہ وہ صحیح رد عمل ہے جو ایک مومن کا ہونا چاہئے۔اب آجکل جو بعض حرکتیں ہو رہی ہیں یہ کون سا اسلامی رد عمل ہے کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو مار دیا، اپنی ہی جائیدادوں کو آگ لگا دی۔اسلام تو غیر قوموں کی دشمنی میں بھی عدل کو ، انصاف کو ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا، عقل سے چلنے کا حکم دیتا ہے، کجا یہ کہ پچھلے دنوں میں جو پاکستان میں ہوایا دوسرے اسلامی ملکوں میں ہو رہا ہے۔بہر حال ان اسلامی ممالک میں چاہے وہ غیر ملکیوں کے کاروبار کو یا سفارتخانوں کو نقصان پہنچانے کے عمل ہیں یا اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچانے کے عمل ہیں یہ سوائے اسلام کو بدنام کرنے کے اور کچھ نہیں۔پس مسلمانوں کو چاہئے ،مسلمان عوام کو چاہئے کہ ان غلط قسم کے علماء اور لیڈروں کے پیچھے چلنے کی بجائے ، ان کے پیچھے چل کر اپنی دنیاو آخرت خراب کرنے کی بجائے ، عقل سے کام لیں۔آج مسلمانوں کی بلکہ تمام دنیا کی صحیح سمت کا تعین کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے۔اس کو پہچانیں ، اس کے پیچھے چلیں اور دنیا کی اصلاح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لئے اس مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہوں کہ اب کوئی دوسرا طریق ، کوئی دوسرار ہبر ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنے اور چلانے والا نہیں بنا سکتا۔اسلام کی شان و شوکت کو بحال کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس کو مسیح و مہدی کی جماعت نے ہی قائم کرنا ہے اور کروانا ہے انشاء اللہ۔پس اس پر ہر ایک کو مسلمان کہلانے والوں کو بھی غور کرنا چاہئے۔اور ہمیں بھی ان کو سمجھانا چاہئے اور نام نہاد علماء کی ان بحثوں میں نہیں پڑنا چاہئے کہ جو آنے والا مسیح تھا ابھی نہیں آیا ، یا اس نے تو فلاں جگہ اترنا ہے یعنی مہدی نے فلاں جگہ آنا ہے۔دراصل جس طرح یہ نظریہ پیش کیا جاتا ہے یہ ایک حدیث کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔اس روایت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح پیش فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : اگر یہ کہا جائے کہ احادیث صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اترے گا اور دمشق کے منارہ شرقی کے پاس اس کا اترنا ہوگا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر اس کے ہاتھ ہوں گے تو اس مُصرح اور واضح بیان سے کیوں کر انکار کیا جائے؟“۔یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو صاف صاف kh5-030425