خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد چهارم 90 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء بن کر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہو یہ نہ ہی جمہوریت ہے اور نہ ہی آزادی ضمیر ہے۔ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور کچھ ضابطہ اخلاق ہوتے ہیں۔جس طرح ہر پیشے میں ضابطہ اخلاق ہیں ، اسی طرح صحافت کے لئے بھی ضابطہ اخلاق ہے اور اسی طرح کوئی بھی طرز حکومت ہو اس کے بھی قانون قاعدے ہیں۔آزادی رائے کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے کے جذبات سے کھیلا جائے ، اس کو تکلیف پہنچائی جائے۔اگر یہی آزادی ہے جس پر مغرب کو ناز ہے تو یہ آزادی ترقی کی طرف لے جانے والی نہیں ہے بلکہ یہ تنزل کی طرف لے جانے والی آزادی ہے۔مغرب بڑی تیزی سے مذہب کو چھوڑ کر آزادی کے نام پر ہر میدان میں اخلاقی قدریں پامال کر رہا ہے اس کو پتہ نہیں ہے کہ کس طرح یہ لوگ اپنی ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں۔ابھی اٹلی میں ایک وزیر صاحب نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ یہ بیہودہ اور غلیظ کارٹون ٹی شرٹس پر چھاپ کر پہننے شروع کر دیئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی کہا ہے میرے سے لو۔سنا ہے وہاں بیچے بھی جارہے ہیں۔کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا علاج یہی ہے۔تو ان لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ تو ہمیں نہیں پتہ کہ مسلمانوں کا یہ علاج ہے یا نہیں لیکن ان حرکتوں سے وہ خدا کے غضب کو بھڑکانے کا ذریعہ ضرور بن رہے ہیں۔جو کچھ بیوقوفی میں ہو گیا، وہ تو ہو گیا لیکن اس کو تسلسل سے اور ڈھٹائی کے ساتھ کرتے چلے جانا اور اس پر پھر مصر ہونا کہ ہم جو کر رہے ہیں ٹھیک ہے۔یہ چیز اللہ تعالیٰ کے غضب کو ضرور بھڑ کاتی ہے۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا تھا باقی مسلمانوں کا رد عمل تو وہ جانیں لیکن ایک احمدی مسلمان کا رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ ان کو سمجھائیں ، خدا کے غضب سے ڈرائیں۔جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں اور اپنے قادر و مقتدر خدا کے آگے جھکیں اور اس سے مدد مانگیں۔اگر یہ لوگ عذاب کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں تو وہ خدا جو اپنی اور اپنے پیاروں کی غیرت رکھنے والا ہے، اپنی قہری تجلیات کے ساتھ آنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔وہ جو سب طاقتوں کا مالک ہے، وہ جو انسان کے بنائے ہوئے قانون کا پابند نہیں ہے، ہر چیز پر قادر ہے، اس کی چاکی جب چلتی ہے تو پھر انسان کی سوچ اس کا احاطہ نہیں کر سکتی ، پھر اس سے کوئی بیچ نہیں سکتا۔پس احمدیوں کو مغرب کے بعض لوگوں کے یا بعض ملکوں کے یہ رویے دیکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور مزید جھکنا چاہئے۔خدا کے مسیح نے یورپ کو بھی وارننگ دی ہوئی ہے اور امریکہ کو بھی وارننگ دی ہوئی ہے۔یہ زلزلے، یہ طوفان اور یہ آفتیں جو دنیا میں آرہی ہیں یہ صرف ایشیا کے لئے مخصوص نہیں ہیں۔امریکہ نے تو اس کی ایک جھلک دیکھ لی ہے۔پس اے یورپ ! تو بھی محفوظ نہیں ہے۔اس لئے کچھ خوف خدا کرو اور خدا کی غیرت کو نہ للکا رو لیکن ساتھ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ممالک یا مسلمان کہلانے والے بھی اپنے kh5-030425