خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 80

خطبات مسرور جلد چهارم 80 خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی درد نہیں ہے، ان پر جماعت کے کارنامے واضح ہو جائیں۔ہمارا رد عمل ہمیشہ ایسا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور اسوہ نکھر کر سامنے آئے۔قرآن کریم کی تعلیم نکھر کر سامنے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر نا پاک حملے دیکھ کر بجائے تخریبی کارروائیاں کرنے کے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگنے والے ہم بنتے ہیں۔اب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی عشق رسول کی غیرت پر دو مثالیں دیتا ہوں۔پہلی مثال عبد اللہ آتھم کی ہے جو عیسائی تھا۔اس نے اپنی کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے انتہائی غلیظ ذہن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دجال کا لفظ نعوذ باللہ استعمال کیا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسلام اور عیسائیت کے بارے میں ایک مباحثہ بھی چل رہا تھا، ایک بحث ہو رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سو میں پندرہ دن تک بحث میں مشغول رہا، بحث چلتی رہی اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتا رہا۔یعنی جو الفاظ اس نے کہے ہیں اس کی پکڑ کے لئے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جب بحث ختم ہوئی تو میں نے اس سے کہا کہ ایک بحث تو ختم ہو گئی مگر ایک رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب ” اندرونہ بائیبل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کے نام سے پکارا ہے۔اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور سچا جانتا ہوں اور دین اسلام کو منجانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا۔اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول کو کا ذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینے تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہادیہ میں گرے گا بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بے باکی اور بد زبانی نہ چھوڑے۔یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کر دینا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا بلکہ بے باکی اور شوخی اور بد زبانی مستوجب سزا ٹھہرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں جب میں نے یہ کہا تو اس کا رنگ فق ہو گیا، چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کا پنپنے لگے تب اس نے بلا توقف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو مع سر کے ہلانا شروع کیا جیسا ایک ملزم خائف ایک الزام کا سخت انکار کر کے تو بہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور بار بار کہتا تھا کہ تو بہ kh5-030425