خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 69
خطبات مسرور جلد چهارم 69 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء کے بعد دوسوسال۔یعنی 1200 سال گزرنے کے بعد علامات مکمل طور پر ظاہر ہوں گے اور وہی زمانہ مہدی کے ظہور کا زمانہ ہے۔( مرقاة المفاتيح شرح مشكواة المصابيح كتاب الفتن باب اشراط الساعة الفصل الثالث روایت نمبر: 5460) تو یہ تو ان ساری باتوں سے ثابت ہو گیا کہ ظہور کا زمانہ وہی تھا جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں نہ کہ وہ جس کی آجکل کے علماء تشریح کرتے ہیں کہ ابھی اتنے سو سال پڑے ہیں یا اتنے سو سال پڑے ہیں۔ان باتوں سے جو میں نے مختلف ائمہ کی پڑھی ہیں اور شاہ ولی اللہ کا اقتباس، اس سے ہم نے دیکھ لیا کہ ان سب نے مسیح و مہدی کے آنے کا وقت 12 ویں صدی کے بعد کا کوئی زمانہ بتایا ہے۔یہ نہیں کہا کہ 19 ویں صدی میں یا 20 ویں صدی میں یا فلاں وقت میں آنا ہے۔ہر جگہ 12 ویں صدی کا ذکر ہے۔اور جب 12 ویں صدی کا ذکر ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ کم و بیش اسی زمانے میں مبعوث ہونا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جو 12 ویں صدی کے مجدد تھے انہوں نے تو اور بھی معین کر دیا ہے یعنی 1268۔اور یہ کم و بیش وہی زمانہ بنتا ہے جس زمانے میں مسیح موعود کے ظہور کی توقع کی جارہی تھی۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ( الجمعة :4) کے حوالے سے ایک اور نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس کے اعداد 1275 بنتے ہیں یعنی جس شخص نے آخرین کو پہلوں سے ملانا ہے یا ملانا تھا اُس کو اسی زمانے میں ہونا چاہئے تھا جس کے بارے میں سب توقع کر رہے تھے اور جس کی ضرورت بھی تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہی وہ سال بنتے ہیں جب میں روحانی لحاظ سے اپنی بلوغت کی عمرکو تھا اور اللہ تعالیٰ مجھے تیار کر رہا تھا۔پس یہ ساری باتیں اتفاقی نہیں ہیں۔ان علماء کو اگر وہ حقیقت میں علماء ہیں غور کرنا چاہئے سوچنا ہئے کہ یہ پرانے بزرگوں کی بتائی ہوئی خبریں ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں قرآن کریم نے بھی مسیح کے آنے کی کچھ نشانیاں بتائی ہیں۔ان پر غور کریں اور یہ کہ کر عوام کو گمراہ نہ کریں کہ ان ساری باتوں کا، ان آفات کا مسیح کی آمد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مسیح کی آمد کے زمانے کے تعین کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن و حدیث سے جو ثابت کیا ہے وہ بات میں بتاتا ہوں لیکن اس سے پہلے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا ہوں جس سے پتہ چلے گا کہ آجکل کے علماء جس قسم کے جواب دے رہے ہیں ان سے یہی توقع کی جاسکتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے یکدم نہیں چھینے گا بلکہ عالموں کی وفات کے ذریعے علم ختم ہوگا جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ انتہائی جاہل اشخاص کو اپنا سردار بنالیں گے۔اور ان سے جا کر مسائل پوچھیں kh5-030425