خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 68
68 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم پھر ایک مولا نا ہیں سیدا بوالحسن علی ندوی معتمد تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔یہ ماننے والوں میں سے تو نہیں ہیں بلکہ ہمارے خلاف ہی ہیں لیکن حالات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ : " مسلمانوں پر عام طور پر یاس و ناامیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا۔1857ء کی جدوجہد کے انجام اور مختلف دینی اور عسکری تحریکوں کی ناکامی کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لوگ مایوس ہو چلے تھے اور عوام کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور کسی مہم اور مؤید من اللہ کی آمد کی منتظر تھی۔کہیں کہیں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا تھا کہ تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا ظہور ضروری ہے۔مجلسوں میں زمانہ آخر کے فتنوں اور واقعات کا چرچا تھا۔( قادیانیت صفحه 17 از مولانا سیدابوالحسن علی ندوی - مکتبہ دینیات 134 شاہ عالم مارکیٹ لاہور مطبع اول 1959) تو یہ بات ثابت کر دی ہے، اپنی باتوں سے کہہ گئے اور لوگ بھی مانتے تھے کہ مسیح موعود کا زمانہ ہے لیکن جب دعوی ہوا ماننے کو تیار نہیں تھے۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ : ” عالم اسلام مختلف دینی و اخلاقی بیماریوں اور کمزوریوں کا شکار تھا۔اس کے چہرے کا سب سے بڑا داغ وہ شرک جلی تھا جو اس کے گوشے گوشے میں پایا جاتا تھا۔قبریں اور تعزیے بے محابا بج رہے تھے، غیر اللہ کے نام کی صاف صاف دہائی دی جاتی تھی۔بدعات کا گھر گھر چرچا تھا۔خرافات اور توہمات کا دور دورہ تھا۔یہ صورتحال ایک ایسے دینی مصلح اور داعی کا تقاضا کر رہی تھی جو اسلامی معاشرے کے اندر جاہلیت کے اثرات کا مقابلہ اور مسلمانوں کے گھروں میں اس کا تعاقب کرے۔جو پوری وضاحت اور جرات کے ساتھ تو حید وسنت کی دعوت دے اور اپنی پوری قوت کے ساتھ الا لِلَّهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ کا نعرہ بلند کرے۔( قادیانیت صفحہ 218 از مولانا سیدابوالحسن علی ندوی - مکتبہ دینیات 134 شاہ عالم مارکیٹ لاہور طبع اول 1959) یہ سب کچھ ہورہا تھا اور اس زمانے میں ساروں نے تسلیم کیا اور اب بھی اس قسم کی باتوں کو سارے تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے ہیں مسیح کی ضرورت نہیں اور یہ کہ مہدی یا مسیح کا ابھی وقت نہیں آیا۔یعنی جس دین کو خدا تعالیٰ نے آخری اور مکمل دین بنا کر بھیجا تھا اس کی انتہائی کسمپرسی کی حالت تھی لیکن خدا تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں تھی کہ اس کے دین کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔اپنے وعدوں کے خلاف نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ چل رہا تھا اور جس مسیح و مہدی کو اپنے وعدوں کے مطابق اس نے مبعوث کرنا تھاوہ نہیں کر رہا تھا۔حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی علامات کا ظہور 200 سال کے بعد ہوگا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب الایات حدیث : 4057) ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کا یہ معنی بھی ہے کہ ہزار سال kh5-030425