خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 67
67 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم میں پیش کرتا ہوں جو کہ جماعت احمد یہ سو سال سے زائد عرصے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے پیش کر رہی ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہی یہ باتیں پیش کی ہیں، سامنے رکھی ہیں۔لیکن کیونکہ اب پھر لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں اس لئے میں دوبارہ اس کا ذکر کر رہا ہوں اور ہمیں تو کرتے بھی رہنا چاہئے ، پیغام پہنچانے کے لئے ضروری بھی ہے تا کہ جماعت میں بھی پیغام پہنچانے کی طرف تیزی پیدا ہو، اور لوگوں پر بھی واضح ہو، کیونکہ اب خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسے ذرائع میسر فرما دیئے ہیں جس کے ذریعہ سے غیروں کی بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی طریقے سے پیغام سن لیتی ہے۔تو بہر حال پہلا حوالہ ہے حضرت نعمت اللہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کا۔وہ چھٹی صدی ہجری کے صاحب کرامات بزرگ ہیں، ایک فارسی قصیدے میں فرماتے ہیں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ بارہ سو سال گزرنے کے بعد عجیب نشان ظاہر ہوں گے اور مہدی اور مسیح ظاہر ہوں گے۔( اربعین فی احوال المهد بین قصیده فارسی صفحہ 2 تا 4۔محمد اسماعیل شہید ) پھر ” حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جن کی وفات 1176 ہجری میں ہوئی فرماتے ہیں کہ میرے رب نے مجھے بتایا ہے کہ قیامت قریب ہے اور مہدی ظاہر ہونے کو ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ بات ان کی کتاب تفہیمات الہیہ میں چھپی ہوئی ہے ) آپ نے امام مہدی کی تاریخ ظہور لفظ چراغ دین میں بیان فرمائی ہے جس کے حروف ابجد 1268 بنتے ہیں۔(حج الكرامہ صفحہ نمبر 394) پھر نواب صدیق حسن خان صاحب کے بیٹے نواب نور الحسن خان ، گوماننے والے تو نہیں لیکن انہوں نے بھی حضرت امام جعفر صادق سے مروی یہ بات کی ہے کہ امام مہدی سن 200 میں نکل کھڑے ہوں گے یعنی بعد 1000 ہجری کے بارہویں صدی میں۔پھر خود ہی کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ اس حساب سے مہدی کا ظہور شروع تیرہویں صدی پر ہونا چاہئے تھا۔مگر یہ صدی پوری گزرگئی مہدی نہ آئے۔اب چودہویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ مہینے گزرچکے ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل رحم و کرم فرمائے“۔( اقتراب الساعۃ صفحہ 221 ) دعا تو یہ کرتے ہیں لیکن مانتے نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نواب صدیق الحسن خان نے لکھا ہے کہ نزول میسیج میں کوئی شخص چودہویں صدی سے آگے نہیں بڑھتا۔یعنی جو تمام باتیں اور خبریں اور مکاشفات اور اخبار ہیں وہ تمام چودہویں صدی تک کی خبر دیتی ہیں۔فرمایا کہ ترقی قمر بھی تک ہی معلوم ہوتی ہے جیسے قرآن شریف میں ہے ﴿وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيمِ﴾ (يس: 40) البد رجلد 1 نمبر 5 ، 6 مورخہ 26 /نومبر) kh5-030425