خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 66
خطبات مسرور جلد چهارم 66 66 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء طرف سفر شروع ہوا ہے۔کوئی کچھ عرصہ بتاتا ہے اور کوئی کچھ۔اور ایک عالم نے تو بڑے معین کر کےسات سو کچھ سال کا عرصہ بتایا ہے کہ ابھی وقت ہے عیسی کے آنے میں۔منہ سے ہی کہنا ہے نا، کونسی کسی نے ان کی باتوں پر تحقیق کرنی ہے۔پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ گو مسیح و مہدی نے چودہویں صدی میں آتا ہے لیکن ابھی نہیں آیا اور ابھی چودہویں صدی ختم نہیں ہوئی ، بڑا عرصہ پڑا ہے اس کے ختم ہونے میں۔پھر چودہویں صدی بھی ختم ہو گئی۔بعض جاہل مولویوں نے تو (ویسے تو سارے ہی جاہل ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ نے تو نے موعود و السلام کو نہیں مانا ) کہا کہ چودہویں صدی بھی ہو گئی ہے ابھی ختم ہی نہیں ہورہی۔پھر شاید کسی نے سمجھایا کہ یہ کیا جہالت کی باتیں کرتے ہو۔پھر کچھ نام نہاد پروفیسروں اور ڈاکٹر علماء کو بھی اپنی علمیت کے اظہار کرنے کا موقع ملا ، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا موقع ملا۔تو انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ مسیح و مہدی کی آمد تو قرب قیامت کی نشانی ہے اس لئے ابھی وقت نہیں آیا جیسا کہ میں نے ابھی بتایا۔اور بعض عرب علماء نے اپنے پہلے نظریہ کے خلاف یہ تو تسلیم کر لیا اور یہ بات مان لی کہ حضرت عیسی کی وفات ہو چکی ہے اور ساتھ یہ بھی کہنے لگ گئے کہ مسیح کی آمد ثانی کی جو احادیث ہیں وہ ساری غلط ہیں ، اب کسی نے نہیں آنا۔اور یہ کہ ہم جو علماء نہیں یا بعض ملکوں میں علماء کے ادارے ہیں دین کی تجدید کرنے کے لئے یہی کافی ہیں۔بہر حال اس کو غلط ثابت کرنے کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی لیکن ہٹ دھرمی ہے۔اور پھر انہوں نے جماعت کے خلاف جھوٹے فتووں کی بھر مار کر دی۔بعض فتوے دینے والوں نے تو ہماری طرف ایسی باتیں منسوب کیں، ایسی تعلیم منسوب کی جس کا ہماری تعلیم سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے، کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔اور یہ فتوے صرف مسلمانوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت اور فساد پھیلانے کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔اور ان باتوں پہ جو ہماری طرف منسوب کی گئی ہیں ان پر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں صرف اتناہی کہتے ہیں بلکہ یہ دعا ہے کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ وَالْفَاسِقِيْن۔اور ان فتوے دینے والوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپر د کرتے ہیں۔ابھی پچھلے دنوں دو نئے فتوے بھی جاری ہوئے ہیں لیکن عام مسلمانوں سے ہمارے دل میں جو ہمدردی ہے اور جو پیغام ان تک پہنچانا ہمارے سپرد ہے یا جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں مسیح و مہدی کی بعثت کے بارے میں کچھ کہوں گا کہ آیا آنے کا یہ وقت اور زمانہ ہے یا نہیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ایک وقت تک تمام علماء اس بات پر متفق تھے کہ مسیح و مہدی کا ظہور چودہویں صدی میں ہوگا یا اس کے قریب ہوگا اور تمام پرانے ائمہ اور اولیاء اور علماء اس بات کی خبر دیتے آئے کہ یہ زمانہ جو آنے والا ہے مسیح و مہدی کے ظہور کا ہوگا اور جو اس زمانے کے لوگ تھے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانے کے یا قریب زمانے کے وہ تو مسلمانوں کے حالات دیکھ کر اس یقین پر قائم تھے کہ عنقریب مسیح و مہدی کا ظہور ہو گا۔اس زمانے میں جن لوگوں کو دین کا در د تھا خدا سے دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالی اسلام کی اس ڈوبتی کشتی کو سنبھال لے۔بہر حال ان خبر دینے والوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے قبل کے حالات پیش کرنے والوں کے حوالے kh5-030425