خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 63

خطبات مسرور جلد چهارم 63 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء نے کی تھی اور غریب آدمی طاعون سے مارے گئے۔اور کانگڑہ اور بھا گسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلے سے ہلاک ہو گئے۔ان کا کیا قصور تھا، انہوں نے کونسی تکذیب کی تھی۔سو یا در ہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہومگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے اور آسمان سے عام طور پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل شریر پیچھے سے پکڑے جاتے ہیں جو اصل مبدء فساد ہوتے ہیں۔جیسا کہ ان قہری نشانوں سے جو موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے ، فرعون کا کچھ نقصان نہ ہوا۔صرف غریب مارے گئے۔یعنی و نشان تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے۔لیکن آخر کا رخدا نے فرعون کو مع اس کے لشکر کو ختم کر دیا۔یہ سنت اللہ ہے جس سے کوئی واقف کارا نکار نہیں کر سکتا۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 167-164 پس یہ جو علماء کہتے ہیں کہ عذاب تو ہے لیکن مسیح کی آمد سے اس کا تعلق نہیں جیسا کہ میں نے پہلے کہا قرآن کریم تو ان کی بات کو رد کرتا ہے۔قیامت کے روز قوم اللہ تعالیٰ سے سوال کرے گی کہ بگڑنے کی پیشگوئیاں تو پوری ہو گئیں اور ہم انتظار میں رہے کہ مسیح و مہدی آئیں، یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور ہمارے علماء بھی انتظار کرواتے رہے اور بغیر مسیح و مہدی کو بھیجے تو نے ہم پر عذاب بھیج دیا۔یہ بھی تو سوال اٹھنا چاہئے۔پس قوم کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے اور اگر علماء کی نیت نیک ہے تو ان کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے۔پس اب چاہے مسلمان ممالک ہوں یا ایشیا کا کوئی ملک ہو یا افریقہ ہو یا جزائر ہوں یا یورپ ہے یا امریکہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے دعوے کے بعد اگر اپنی حالتوں کو نہیں بدلیں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما چکے ہیں کہ : ”اے یورپ ! تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا ! تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنے چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں“۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 269) پس جہاں یہ دنیا کے لئے انذار ہے ہمارے لئے بھی فکر کا مقام ہے کہ اپنے دلوں کو پاک کریں ہم بھی کہیں ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں اور ان لوگوں میں شامل ہو کر خدا کے حضور حاضر نہ ہوں جن کے دامن پر کسی بھی قسم کا داغ ہو۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ خدا کے kh5-030425