خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 62
خطبات مسرور جلد چهارم 62 b خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء اور جو شخص اپنے گزشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے اس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسرائیل : 16)‘ کہ ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کی طرف کوئی رسول نہ بھیج دیں۔تو یہ علماء جو بحث کر رہے ہیں کہ عذاب تو آیا ہے لیکن یہ کہنا کہ حضرت عیسی کی آمد سے اس کا کوئی تعلق ہے یہ غلط ہے۔ایک حصے کو تو تسلیم کر رہے ہیں، دلیل تو قرآن و حدیث سے بڑی اچھی دے رہے ہیں لیکن قرآن کریم کی انگلی بات کو مانے کو تیار نہیں۔وہاں ان کی روٹی پر اثر پڑتا ہے۔تو فرمایا کہ اس سے زیادہ میرا مطلب نہ تھا کہ ان زلزلوں کا موجب میری تکذیب ہو سکتی ہے۔یہی قدیم سنت اللہ ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا سو سان فرانسسکو وغیرہ مقامات کے رہنے والے جو زلزلہ اور دوسری آفات سے ہلاک ہو گئے ہیں۔اگر چہ اصل سبب ان پر عذاب نازل ہونے کا ان کے گزشتہ گناہ تھے مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے کیونکہ قدیم سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں۔اور نیز اس وجہ سے کہ میں نے براہین احمدیہ اور بہت سی کتابوں میں یہ خبر دی تھی کہ میرے زمانہ میں دنیا میں بہت سے غیر معمولی زلزلے آئیں گئے اور وہ اعداد جو میں نے دیئے ہیں اس سے ثابت ہو گیا اور دوسری آفات بھی آئیں گی اور ایک دنیا ان سے ہلاک ہو جائے گی۔پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے۔یادر ہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں“۔تو اب تو خبر بھی دنیا میں ہر جگہ پہنچ چکی ہے عموماً۔جیسا کہ نوح کے وقت میں ہوا کہ ایک قوم کی تکذیب سے دنیا پر عذاب آیا بلکہ پرند چرند و غیرہ بھی اس عذاب سے باہر نہ رہے۔غرض عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کسی صادق کی حد سے زیادہ تکذیب کی جائے یا اس کو ستایا جائے تو دنیا میں طرح طرح کی بلائیں آتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں یہی بیان فرماتی ہیں اور قرآن شریف بھی یہی فرماتا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ سنت اللہ اسی طرح پہ جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں۔پھر رفتہ رفتہ ائمۃ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر پر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے۔اس لئے باہر کوئی نہیں رہے گا۔فرمایا کہ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے آنا نَاتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا﴾ (الرعد :42) یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔اس میرے بیان میں ان بعض نادانوں کے اعتراضات کا جواب آ گیا ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر تو مولویوں kh5-030425