خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 628
خطبات مسرور جلد چهارم 628 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 2006ء اس اندھیرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں روشنی عطا کی ہے، یہ رحمن خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی روشنی ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو یہ صفت رحمانیت ہے اس کا انکار کرنے کی بجائے اس سے فائدہ اٹھاؤ اور قبول کرو۔کیونکہ اگر نہیں کرتے جیسا کہ میں نے کہا، تو لاشعوری طور پر خدا کی اس صفت کا انکار ہو گا۔ہم وہ خوش قسمت ہیں کہ جنہوں نے مان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق بخشی لیکن صرف اسی پر راضی نہیں ہو جانا بلکہ اب یہ ہمارا کام ہے، ہمیں یہ حکم ہے ، عاجزی کے ساتھ ، عاجزی اختیار کرتے ہوئے خدا کی عبادت کرو، عبادتوں پر زور دو اور جو مخالفین کے تکبر کا جواب ہے وہ نرمی اور ملائمت اور سلام سے دو، ان کے لئے دعا کرو کیونکہ یہی رحمن خدا کے بندوں کا کام ہے۔ان آیات کی تشریح میں جو میں نے پہلے پڑھی تھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمَنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمَنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَجَعَلَ فِيْهَا سِرَاجًا وَّ قَمَرًا مُّنِيْرًا وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ اَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَمًا۔“ (الفرقان : 61-64) یہ ساری آیات لکھنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”یعنی کافروں اور بے دینوں اور دہریوں کو کہا جاتا ہے کہ تم رحمن کو سجدہ کرو تو وہ رحمن کے نام سے متنفر ہو کر بطور انکار سوال کرتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے؟۔( پھر بطور جواب فرمایا ) رحمن وہ ذات کثیر البرکت اور مصدر خیرات دائی ہے۔یعنی وہ بے انتہا برکتوں والی ذات ہے اور اسی سے تمام بھلائیاں اور خیر پھوٹتی ہیں جو ہمیشہ رہنے والی ہیں۔" جس نے آسمان میں برج بنائے۔برجوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا ہے۔کائنات بنائی اس میں سورج اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کا فرومومن کے روشنی پہنچاتے ہیں۔اسی رحمن نے تمہارے لئے یعنی تمام بنی آدم کے لئے دن اور رات بنائے جو کہ ایک دوسرے کے بعد دورہ کرتے رہتے ہیں۔تا جو شخص طالب معرفت ہو وہ ان دقائق حکمت سے فائدہ اٹھا وے“۔ان گہری باتوں سے حکمت کی عقل کی باتوں سے فائدہ اٹھائے۔اور جہل اور غفلت کے پردہ سے خلاصی پاوے۔اور جو شخص شکر نعمت کرنے پر مستعد ہو وہ شکر کرے۔رحمن کے حقیقی پرستار وہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بردباری سے چلتے ہیں۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرو اور اس کی طرف بہت توجہ ہونی چاہئے۔پھر فرمایا " رحمان کے حقیقی پرستاروہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بُردباری سے چلتے ہیں۔جو نرمی سے چلتے ہیں، جو عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے سخت کلامی سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے kh5-030425