خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 627
خطبات مسرور جلد چهارم 627 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء لئے بھیجا اور پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج کر راہنمائی فرمائی۔سورہ فرقان میں آتا ہے وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمَنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمَنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا (الفرقان:61) اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ رحمن کے حضور سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ رحمن ہے کیا چیز ؟ کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دیتا ہے۔اور ان کو اس بات نے نفرت میں اور بھی بڑھا دیا۔پھر اگلی آیات میں ہے تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِى السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَجَعَلَ فِيْهَا سِرَاجًا وَّ قَمَرًا مُّنِيْرًا۔وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ اَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا ( الفرقان : 62-63 ) بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس آسمان میں ایک روشن چراغ یعنی سورج اور ایک چمکتا ہوا چاند بنایا۔اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا۔اس کے لئے جو چاہے نصیحت حاصل کرے یا جو شکر کرنا چاہے۔پھر فرمایا وَ عِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُوْنَ قَالُوْا سَلَمًا (الفرقان: 64) اور حمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو جوابا کہتے ہیں سلام۔تو ان آیات میں کافروں کو جواب دیا گیا ہے کہ تم رحمن خدا کے بارے میں پوچھتے ہو کہ وہ کون ہے۔رحمن خدا وہ ہے جس نے آسمان میں سورج اور چاند پیدا کئے جو تمہارے فائدہ کے لئے ہیں۔سورج اور چاند ہے جس کی روشنی سے تمہاری اور نباتات کی زندگی وابستہ ہے۔تمہاری مادی زندگی بھی اسی رحمن سے وابستہ ہے اور تمہاری روحانی زندگی بھی اسی رحمن سے وابستہ ہے۔اور اس زمانے میں بھی جو آج کا ہمارا زمانہ ہے یہی سوال اٹھتا ہے، گومنہ سے نہ سہی اپنے عمل سے، اپنے فعل سے۔تو اس زمانے میں بھی جو روحانی سورج آج سے چودہ سو سال پہلے طلوع ہوا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا، اس سے روشنی پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہ روشنی آگے پھیلائی ہے۔اس لئے اس زمانے میں بھی اس کو قبول کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ چاند بھیجا اس کو قبول کرو اور نہ جیسا کہ میں نے کہا، قبول نہ کرنے والے بھی اصل میں آجکل یہی سوال کر رہے ہوتے ہیں کہ کون رحمان خدا؟۔ایک طرف اظہار ہے کہ مسلمانوں کی حالت بری ہے، کسی مصلح کو آنا چاہئے کسی نبی کو آنا چاہئے دوسری طرف عملا اللہ تعالیٰ کی صفت سے ہی انکار کر رہے ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد، اس روشنی کے بعد جو لمبے عرصہ کے لئے ایک اندھیرا چھایا تھا اور اب پھر اس زمانے میں kh5-030425