خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 626 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 626

626 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم قَبْلِهَا أُمَمٌ لِتَتْلُوا عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمَن قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ (الرعد:31) یعنی اسی طرح ہم نے تجھے ایسی امت میں بھیجا جس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی تھیں تا کہ تو ان پر وہ تلاوت کرے جو ہم نے تیری طرف وحی کیا حالانکہ وہ رحمن کا انکار کر رہے ہیں، تو کہہ دے وہ میرا رب ہے۔میرا کوئی معبود اس کے سوا نہیں۔اس پر میں تو کل کرتا ہوں اس کی طرف میرا عاجزانہ جھکنا ہے۔اس آیت سے دو آیتیں پہلے کافروں نے سوال اٹھایا تھا کہ ہمارے انکار کی وجہ سے ہمیں نشان کیوں نظر نہیں آتا؟ تو اس کا ایک جواب تو وہیں اسی وقت دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہلاک کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، بعض دفعہ نشان دکھا کر ہدایت دیتا ہے۔تو یہاں پر یہ بتایا کہ اے انکار کرنے والو! تم لوگ اپنے انکار کے بدلے میں سزا یا نشان چاہتے ہو تو واضح ہو کہ خدا تعالیٰ کی جو صفت رحمانیت ہے یہ نشانات کو ٹال رہی ہے۔اور تم یہ کہ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ نشان کیوں نہیں دکھاتا ؟ تو یہ صرف اس لئے نہیں ہورہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مہلت دے رہا ہے بلکہ اپنی رحمانیت کے جلوے دکھا رہا ہے۔ورنہ اگر یہ صفت نہ ہوتی تو تمہاری حرکتیں دیکھ کر بھی کا میں تمہیں تباہ و برباد کر چکا ہوتا۔پھر حضرت موسیٰ کی قوم کا ذکر ہے۔جب انہوں نے رحمان خدا کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنایا تو حضرت ہارون نے انہیں رحمن خدا کا حوالہ دے کر توجہ دلائی تھی کہ وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِنْ قَبْلُ يقُوْمِ إِنَّمَا فُتِبْتُمْ بِهِ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُوْنِي وَاَطِيْعُوا أَمْرِی (طه :91) اس کا ترجمہ ہے کہ حالانکہ ہارون اس سے پہلے ان سے کہہ چکا تھا کہ اے میری قوم تم اس کے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو یقیناً تمہارا رب بے انتہا رحم کرنے والا ہے۔پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔تو حضرت ہارون نے یہی کہا کہ رحمن خدا کو چھوڑ کر اس آزمائش اور ابتلاء میں کیوں پڑ رہے ہو۔بچھڑے کو معبود بنا کر شرک قائم کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کیوں دعوت دے رہے ہو۔اتنے نظارے دیکھنے کے بعد بھی، اتنے انعامات دیکھنے کے بعد بھی تمہیں عقل نہیں آ رہی۔اللہ تعالیٰ نے تو بہت بڑا احسان کیا کہ اپنی رحمانیت کے جلوے تمہیں دکھا رہا ہے، مختلف موقعوں پر تمہیں دکھائے اور تم نے اس کو چھوڑ کر ایک کھوکھلی چیز کو معبود بنایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جو ہے اس کی وجہ سے تم لوگ بچے ہوئے ہور نہ یہ جو حرکت ہے وہ تمہیں تباہ کرنے والی حرکت ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جس سے تباہ ہو سکتے ہو۔اور فرماتے ہیں کہ عقل کرو اور میری پیروی کرو۔میری بات مانو اور سیدھے راستے پر آجاؤ۔پس یہ رحمان خدا کے احسان ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیاء کے ذریعہ سے قوموں کی راہنمائی فرماتا رہتا ہے۔اور آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر تمام دنیا کی راہنمائی کے kh5-030425