خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 625
خطبات مسرور جلد چهارم 625 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء اور یہ ایسی رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی پیدائش سے پہلے ہی ان کیلئے مہیا فرمایا۔اس میں متقیوں کیلئے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔یہ نعمتیں بغیر کسی عمل کے اور بغیر کسی حق کے اس بے حد مہربان اور عظیم خالق عالم کی طرف سے عطا ہوئی ہیں اور اس عالی بارگاہ سے ایسی اور بھی بہت سی نعمتیں بخشی گئی ہیں۔جو شمار سے باہر ہیں۔مثلاً صحت قائم رکھنے کیلئے ذرائع پیدا کرنا اور ہر بیماری کیلئے علاج اور دواؤں کا پیدا کرنا، رسولوں کا مبعوث کرنا اور انبیاء پر کتابوں کا نازل کرنا، یہ سب ہمارے رب ارحم الراحمین کی رحمانیت کا پر ارحم ہے۔یہ خالص فضل ہے جو سی کام کرنے والے کے کام یا گریہ وزاری یا دعا کے نتیجے میں نہیں ہے۔اعجاز مسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 92-95 تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 42 تا 44 جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس طرح رحمان خدا ہماری دنیاوی ضروریات پوری کر رہا ہے ان کے لئے ہمیں مختلف چیزوں سے نوازتا ہے اور اس کا یہ فیض عام ہے۔اس کی پیدا کی ہوئی بعض چیزوں سے امیر و غریب سب برابر کا حصہ لے رہے ہیں۔اسی طرح روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے تحت ہی انسانوں کی اصلاح کے لئے ان کو نیکیوں پر قائم رکھنے کے لئے سلسلہ نبوت ورسالت جاری فرمایا ہوا ہے۔قرآن کریم میں بے شمار آیات میں اس صفت رحمن کا ذکر ہے اور اس حوالے سے بہت سی جگہوں پر اللہ تعالی کی عبادت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔انبیاء نے بھی جب بھی نیکیوں کی تلقین کی ہے ہمیشہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر یہی اعلان کیا ہے کہ ہم جو بھی تمہیں نیکی کی باتیں بتارہے ہیں، اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، اس محسن کی طرف بلا رہے ہیں، رحمن خدا کی طرف بلا رہے ہیں اس کے بدلے میں ہم تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے بلکہ یہ سب کچھ تمہاری بھلائی کے لئے تمہیں بتایا جا رہا ہے کہ صرف اس دنیا کے انعاموں سے فائدہ نہ اٹھاتے رہو، ناشکرے نہ بنو بلکہ اس کی طرف جھکو بھی۔ٹھیک ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے نظارے اس دنیا میں ہر ایک کے لئے ہیں اور وہ دکھاتا چلا جائے گا چاہے اس کا شکر گزار بن رہے ہو یا نہیں۔اس کی بعض چیزیں عام ہیں۔ہر ایک کے لئے اس کا فیض ہے۔لیکن یہ چیزیں اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئیں یا مائل کرنے والی ہونی چاہئیں کہ اس کی عبادت کرو، اس کے حکموں پر عمل کرو۔تو اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ یہی فرمایا ہے کہ تمہاری جو بحث ہو رہی ہے کہ انکار کے باوجود، میری نافرمانیوں کے باوجود، جس سے ہر ایک فیض پارہا ہے یہ اس صفت رحمانیت کا جلوہ ہے۔اگر رحمانیت نہ ہوتی تو انسانوں کی اکثریت اپنے ظلموں کی وجہ سے تباہ ہو جاتی۔ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں ذکر فرمایا ہے کہ گذلِكَ أَرْسَلْنَكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ kh5-030425