خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 624
624 66 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم کس طرح مدد کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ لفظ الرحمن کے ایک اپنے بھی خاص معنے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اذن الہی سے صفت الرحمن کا فیضان انسان اور دوسرے حیوانات کو قدیم زمانے سے حکمت الہیہ کے اقتضاء اور جو ہر قابل کی قابلیت کے مطابق پہنچتا رہا ہے۔کیا ہے رحمن کا خاص معنی ؟ کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے صفت الہی کا صفت رحمان کا جو فیض ہے، جو فائدہ ہے وہ انسان کو بھی پہنچ رہا ہے اور حیوانات کو بھی پہنچ رہا ہے اور ہمیشہ سے پہنچ رہا ہے یا جس چیز کو بھی ضرورت ہے، یہ عام فیض ہے۔فرمایا ” حکمت الہیہ کے اقتضاء اور جو ہر قابل کی قابلیت کے مطابق پہنچتا رہا ہے ، نہ کہ مساوی تقسیم کے طور پر۔اور اس صفت رحمانیت میں انسانوں یا حیوانوں کے قومی کے کسب اور عمل اور کوشش کا کوئی دخل نہیں بلکہ یہ للہ تعالیٰ کا خالص احسان ہے۔تو یہ فیض ہے جو عام ہے، ہر ایک کو پہنچ رہا ہے۔پھر فرمایا کہ ”جس سے پہلے کسی کا کچھ عمل بھی موجود نہیں ہوتا اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عام رحمت ہے، جس میں ناقص یا کامل شخص کی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔حاصل کلام یہ ہے کہ صفت رحمانیت کا فیضان کسی عمل کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ کسی استحقاق کا ثمرہ ہے نہ کسی کا حق ہے جس کا یہ پھل مل رہا ہے بلکہ یہ ایک خاص فضل ایزدی ہے جس میں فرمانبرداری یا نافرمانی کا دخل نہیں۔بعض چیزیں اللہ تعالیٰ کی ہیں، جن سے فرمانبردار بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور نا فرمان بھی بلکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے جو مشرک ہیں۔جن کو اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں نہیں بخشوں گا وہ بھی فائدہ اٹھا ر ہے ہیں اور یہ فیضان ہمیشہ خدا تعالیٰ کی مشیت اور ارادے کے مطابق نازل ہوتا ہے، اس میں کسی اطاعت ، عبادت ، تقویٰ اور زہد کی شرط نہیں۔اس فیض کی بنا مخلوق کی پیدائش ، اس کے اعمال ، اس کی کوشش اور اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی رکھی گئی ہے۔اس لئے اس فیض کے آثار انسان اور حیوان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی پائے جاتے ہیں۔اگر چہ یہ فیض تمام مراتب وجود اور زمان و مکان اور حالت اطاعت و عصیان میں جاری و ساری رہتا ہے۔یہ فیض جو ہے یہ ہر حالت میں جاری ہے۔اطاعت کرو، گناہ کرو، نافرمانی کرو، ہر حالت میں جاری ہے۔فرمایا کہ " کیا آپ نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نیکوکاروں اور ظالموں سب پر وسیع ہے۔اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا چاند اور اس کا سورج اطاعت گزاروں اور نافرمانوں کبھی پر چڑھتا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو اس کے مناسب حال قومی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔اور اس نے ان سب کے معاملات کا ذمہ لیا ہے۔اور کوئی بھی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں۔اُسی نے ان کے لئے درخت پیدا کئے اور ان درختوں سے پھل پھول اور خوشبوئیں پیدا کیں۔kh5-030425