خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 623
خطبات مسرور جلد چهارم 623 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء وسلم کے فیوض و برکات اور آپ کی ہدایت و تبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لئے قرار پائی۔پھر دوسری صفت رحمن کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھہرے کیونکہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں۔یہاں ایک اور بات ہوگئی، پیچھے کسی لغت میں کسی بیان کرنے والے مفسر نے لکھا کہ رحمن صرف خدا کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ رحمن کی صفت انسانوں میں بھی ہو سکتی ہے اور انسان کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے زیادہ ہے۔بلکہ آپ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ایک عام آدمی بھی اس کا نمونہ بنتا ہے اور اس کو یہ نمونہ دکھانا چاہئے۔اس کے لئے آپ نے مثال دی ہے کہ جو کام تم بغیر کسی اجر کے کرتے ہو، لوگوں کی بھلائی کے لئے خدمت خلق کا کام کرتے ہو وہ اسی صفت کے تابع ہو کر کرتے ہو، اور کرنا چاہئے۔بلکہ ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ جنہوں نے میری بیعت کی ہے اگر وہ اس صفت کو نہیں اپناتے تو اپنی بیعت میں اور وعدے میں جھوٹے ہیں۔پس اس طرف بھی ہر احمدی کو بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔خدمت خلق کے سلسلے میں ضمناً بات آگئی ہے تو کہہ دوں کہ جماعت میں غریبوں کی شادیوں کے سلسلہ میں ، علاج کے سلسلے میں تعلیم کے سلسلے میں ایک نظام رائج ہے۔بچوں کی شادیوں کے لئے حضرت خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مریم فنڈ جاری فرمایا تھا۔یہ بڑی اچھی، بہت بڑی خدمت خلق ہے، جماعت کے افراد کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔پھر مریضوں کا علاج ہے، خاص طور پر غریب ملکوں میں ، پاکستان میں بھی افریقن ممالک میں بھی اور دوسرے غریب ممالک میں بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔اس فنڈ میں خدمت خلق کے جذبہ سے پیسے دیں، چندہ دیں صدقات دیں تو اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو اپنانے کی وجہ سے اس کی رحمانیت سے بھی زیادہ سے زیادہ فیض پائیں گے۔پھر اسی طرح تعلیم ہے، بچوں کی تعلیم پر بڑے اخراجات ہوتے ہیں، بڑی مہنگائی ہے۔اس کے لئے جن کو توفیق ہے ان کو دینا چاہئے۔اسی طرح بات چلی ہے تو میں ذکر کر دوں پاکستان میں بھی ، ربوہ میں بھی اور افریقہ میں بھی جماعت کے ہسپتال ہیں ، وہاں ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کو گو کہ تنخواہ بھی مل رہی ہوتی ہے اور ایک حصہ بھی مل رہا ہوتا ہے لیکن شاید باہر سے کم ہو۔تو بہر حال خدمت خلق کے جذبے کے تحت ڈاکٹروں کو بھی اپنے آپ کو وقف کرنا چاہئے۔چاہے تین سال کے لئے کریں، چاہے پانچ سال کے لئے کریں یا ساری زندگی کے لئے کریں۔لیکن وقف کر کے آگے آنا چاہئے اور یہی چیزیں ہیں جو پھر ان کو اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کریں گی اور ان پر اتنے فضل ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت ان پر جلوہ گر ہوگی۔اور پھر ایسے ایسے طریقوں سے اللہ تعالیٰ رحمانیت کی صفت دکھاتا ہے، جیسا کہ میں نے پہلے دو واقعات بیان کئے کہ kh5-030425