خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 622 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 622

خطبات مسرور جلد چهارم 622 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء رحمانیت کے جلوے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ابراہیم بن ادھم کے بارے میں بیان ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں کسی کے ہاں مہمان تھا تو انہوں نے میرے سامنے کھانا رکھا۔کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک کوا آیا اور میرے سامنے سے ایک روٹی اُٹھا کر لے گیا۔کہتے ہیں کہ میں بڑا حیرت زدہ ہو کر اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں یہ کیا کرتا ہے، کہاں لے جاتا ہے۔تو وہ ایک ٹیلے پر اتر اجہاں ایک آدمی بندھا ہوا پڑا تھا، کسی آدمی کو باندھ کے کسی اونچی جگہ پر کسی اونچے ٹیلے یا پہاڑی پر رکھا ہوا تھا، اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔تو میں نے دیکھا کہ کوے نے روٹی اس بندے کے آگے پھینک دی۔(تفسیر کبیر از علامه فخرالدین رازى تفسير سورة الفاتحه الفصل الثالث في تفسير قوله الرحمن الرحيم) رحمانیت کا یہ ایک جلوہ انہوں نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔پھر ایک واقعہ انہوں نے لکھا ہے کہ میں دریا کے کنارے کھڑا تھا۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ موٹا سا بچھو آیا اور دریا میں ایک بڑا سا مینڈک تھا، بچھو اس کے اوپر بیٹھ گیا۔کہتے ہیں کہ میں بھی کشتی میں بیٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا کہ دیکھوں یہ کہاں جاتے ہیں۔تو عجیب واقعہ ہوا ہے کہ اگلے کنارے پر پہنچ کے بچھو وہاں سے اترا اور ایک طرف چل پڑا میں بھی پیچھے پیچھے گیا، تو دیکھا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی سور ہا تھا اور ایک سانپ اس پر حملہ کرنے والا تھا، بچھو نے جا کر اس کو ڈنگ مارا اور سانپ نے بچھو کو کاٹا۔دونوں مر گئے اور آدمی بچ گیا۔تو یہ بھی انہوں نے ایک قصے میں بیان کیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنی رحمانیت کے جلوے دکھاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ رب کے بعد دوسری صفت رحمن کی ہے اور بعض معنے ایسے ہیں جو رب میں بھی آ رہے تھے۔رب کے معنے اصل یہ ہیں کہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا ، تمام زمین و آسمان کی پیدائش اس میں شامل ہے اور رحمان کے معنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ وہ بغیر کسی اجر کے نعمتیں مہیا کر رہا ہے“۔اس کی ایک مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے یہ دی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ سورہ فاتحہ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں یعنی جو چار صفات بیان ہوئی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔مثلاً پہلی صفت رب العالمین ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مظہر ہوئے جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء: 108) جیسے رب العالمین عام ربوبیت کو چاہتا ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ kh5-030425