خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 612
خطبات مسرور جلد چهارم 612 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء رنگ میں رنگین ہونا ہے اور تَخَلَّقُوْا بِاخْلَاقِ اللہ کا نمونہ بنا ہے صحابہ میں بہت زیادہ تھا اور ہر ایک اپنے اپنے علم کے مطابق اس پر عمل کیا کرتا تھا۔روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکڑا اپنے عزیزوں کی بہت مدد کیا کرتے تھے۔اس میں ایک مسطح بن اثاثہ بھی تھا۔جب افک کا واقعہ ہوا تو اس نے بھی حضرت عائشہ کے متعلق غلط باتیں کیں۔لوگوں میں وہ باتیں پھیلائیں۔اور جب اللہ تعالیٰ کی وحی کے بعد حضرت عائشہ کی بریت ثابت ہو گئی تو حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ اب میں کبھی بھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔جب قسم کھالی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی کہ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوْا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِيْنَ وَالْمُهجِرِيْنَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا الاتُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُوْرٌ رَّحِيم ( النور : 23) اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔پس چاہئے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بعد پھر وظیفہ جاری فرما دیا اور یہ عہد کیا کہ میں وظیفہ کبھی بند نہیں کروں گا۔اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا نمونہ اور فوری رد عمل اور اس کی تعلیم کا یہ عرفان ہے کہ فوری طور پر اس قسم کو تو ڑ دیا جس کا توڑ نا کوئی گنا نہیں۔جو قسم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کھائی جائے اس کو تو ڑنا جائز اور ضروری ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس کی ربوبیت کے تحت جو تمہارے ساتھ سلوک ہو رہا ہے ، انسانوں سے سلوک ہو رہا ہے، جس میں رحم بھی ہے بخشش بھی ہے اور بہت سے دوسرے فیض بھی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے لئے تمہیں بھی ان کو اختیار کرنا چاہئے اور کسی بھی چیز کے خلاف دلوں میں کینے پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔ضرورت مند کی ضرورت پوری ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ فلاں آدمی ایسا ہے، فلاں عہدیدار کے ساتھ صحیح تعلقات نہیں ہیں یا فلاں بات فلاں کو غلط کہہ دی ہے تو اس کو اگر ضرورت بھی ہے تو اس کی مدد نہیں کرنی۔اس کی ضرورت پوری کرنا ، اس کی مدد کرنا، اس کی بھوک مٹانا ایک علیحدہ چیز ہے اور انتظامی معاملات اور ان پر ایکشن (Action) لینا ایک علیحدہ چیز ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اختیار کرنے کے بعد یا ایسا کام کرنے کے بعد جو اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے ایک بندہ، بندہ ہی رہتا ہے اور رب کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔kh5-030425