خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 588 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 588

خطبات مسرور جلد چهارم 588 خطبہ جمعہ 24 نومبر 2006ء فرمایا کہ سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لا نا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ ربّ العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے۔ہر جگہ کا، ہر ملک کا رب ہے۔اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کا وہی سر چشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتے ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا۔یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔پس اس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیا اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھیرایا۔“ پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 442,441) پس اس زمانے میں ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے نتیجہ میں ہمیں یہ فیض ملا۔اس سے ہم پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف رنگ میں اپنی اس صفت کے بارے میں ذکر فرمایا ہے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بھی ذکر کیا تھا کہ بیسیوں جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت رب کا ذکر فرمایا ہے اور مومنوں کو مختلف طریقوں سے یہ احساس دلایا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ تمہاری بقا اور تمہاری سلامتی چاہے وہ جسمانی ہو یا روحانی ہو، اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ سب میری ذات سے وابستہ ہے، میں جو تمہارا رب ہوں اس لئے ہمیشہ میری طرف جھکو اور مجھ سے مانگتے رہو۔فرمایا کہ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَخِرِيْنَ (المؤمن :61 ) اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا۔یقینا وہ لوگ جو میری عبادت کرنے سے اپنے تئیں بالا سمجھتے ہیں ضرور جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمیشہ یاد رکھو تمہاری ضروریات کو پورا کرنے والا میں ہوں۔اب تک جو کچھ تمہیں ملا اور تم نے زندگی گزاری وہ میرے احسانوں کی وجہ سے تھا، میرے انعاموں کی وجہ سے kh5-030425