خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 577
577 خطبہ جمعہ 17 /نومبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم پھر رب کے معنوں میں المُدَبر کا لفظ ہے۔لغت میں دبر کا مطلب ہے کہ کسی کے بعد یا پیچھے آیا دَبَّرَ الامر کا مطلب ہے کہ کسی چیز کی عاقبت اور نتیجے کے بارے میں سوچا اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کسی کام کو ایسے طور پر چلایا کہ وہ صحیح نتیجہ پیدا کرے۔پس المدبر کا مطلب ہے کہ ہر کام کے آخری نتیجہ پر نظر رکھنے والا اور اس کو ایسے طریق پر چلانے والا کہ اس کا صحیح نتیجہ نکلے۔پھر اس کے ایک معنے قیم کے بھی ہیں۔یعنی کسی چیز کی نگرانی اور درست کرنے والا۔اللہ تعالیٰ کے القیم ہونے کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کے کام بنا تا ، ان کو سہارا دیتا اور صحیح راستے پر قائم رکھتا ہے۔پھر اس کا ایک مطلب المُنْعِم بھی ہے۔لغت میں نَعَم کا مطلب ہے کوئی چیز نرم و نازک ہوگئی۔اسی سے نعمت ہے جس کا مطلب ہے اچھی اور خوشحالی کی حالت۔انعام کا مطلب ہے کسی کو بھلائی اور خیر پہنچانا، کسی پر احسان کرنا۔پس المُنعِم کا مطلب ہوا وہ ذات جو بھلائی اور خیر اور خوشحالی سے نوازے اور دوسرے سے احسان کرے۔پھر رب کے معانی میں ایک لفظ میسم اور مصمم استعمال ہوا ہے۔یہ تمام سے ہے اور کسی چیز کے تمام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی انتہا اور کمال کو پہنچ جائے یہاں تک کہ کسی بیرونی چیز کا محتاج نہ رہے۔الْمُتَمِّم، الْمُقِم کا مطلب ہے کہ ہر کام کو پورا کرنے والا ، ہر حاجت کو پورا کرنے والا اور ہر نقص کو دور کرنے والا غریبوں کی بھوک ختم کرنے والا۔پس ان سب کو اگر جمع کر لیں تو اس کا یہ مطلب بنے گا کہ وہ ہستی جو سب سے اعلیٰ ہے، افضل ہے، معزز ہے جس کی اطاعت لازم ہے۔جس کے کام میں کسی غلطی کا امکان ہی نہیں ہے، کسی کام کا آخری نتیجہ بھی اس کے علم میں ہے، اس لئے اس سے راہنمائی کی ضرورت ہے۔وہی ہے جو اپنی مخلوق کے کام بناتا ہے، ان کو سہارا دیتا ہے اور انہیں صحیح راستے پر رکھتا ہے۔وہ بندے کی بھلائی اور خوشحالی کے سامان پیدا فرماتا ہے۔حاجتیں پوری کرنے والا ہے۔ہر کام کی طاقت و قدرت کا مالک ہے، ہر کام کی قدرت رکھتا ہے، کسی کا محتاج نہیں ہے، مالک گل ہے۔تو یہ رب کے لفظ کی وضاحت ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں یہ لفظ بے شمار جگہ استعمال کیا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ابتداء میں پہلی سورۃ میں ہی رب کے لفظ کو استعمال کر کے ہمیں اپنی طاقتوں اور قدرتوں کا اعلان فرما کر اپنے حضور جھکنے اور تمام فیض صرف اور صرف رب العالمین سے حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اسی طرح قرآن کریم کے آخر میں بھی فرمایا ہے کہ میں رب ہوں۔ہر قسم کی برائیوں سے مشکلوں سے، ابتلاؤں سے، امتحانوں سے جن میں ذاتی بھی ہیں، معاشرتی بھی ہیں، دینی بھی ہیں، دنیا وی بھی ہیں ، ان سب سے اگر بچنا ہے تو میری پناہ میں آ جاؤ۔اس کی تفصیل آخر میں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس میں فرمائی۔پس وہی ذات ہے جو حقیقی رب ہے، اس سے دور ہو کر نہ تمہاری دنیارہ سکتی ہے نہ kh5-030425