خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 568
خطبات مسرور جلد چهارم خدا کا خوف کریں۔568 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 2006 ء پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری بیوی نے ایک انتہائی قدم جو اٹھایا اور اس پر تمہیں اس کو سزا دینے کی ضرورت پڑی تو یا د رکھو کہ اب اپنے دل میں کینے نہ پالو۔جب وہ تمہاری پوری فرمانبردار ہو جائے ، اطاعت کرلے تو پھر اس پر زیادتی نہ کرو۔فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (النساء:35)۔پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر تمہیں ان پر زیادہ کا کوئی حق نہیں ہے۔یقیناً اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔یادرکھو اگر تم اپنے آپ کو عورت سے زیادہ مضبوط اور طاقتور سمجھ رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سے بہت بڑا، مضبوط اور طاقتور ہے۔عورت کی تو پھر تمہارے سامنے کچھ حیثیت ہے بلکہ برابری کی ہی حیثیت ہے لیکن تمہاری تو خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لئے اللہ کا خوف کرو اور اپنے آپ کو ان حرکتوں سے باز کرو۔پھر یہ معاملات بھی اب سامنے آنے لگے ہیں کہ شادی ہوئی تو ساتھ ہی نفرتیں شروع ہو گئیں بلکہ شادی کے وقت سے ہی نفرت ہوگئی۔شادی کی کیوں تھی؟ اور بدقسمتی سے یہاں ان ملکوں میں یہ تعداد بہت زیادہ بڑھ رہی ہے ، شاید احمد یوں کو بھی دوسروں کا رنگ چڑھ رہا ہے حالانکہ احمدیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے خالص اپنے دین کا رنگ چڑھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی تھی۔پس ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر مرضی کی شادی نہیں ہوئی تب بھی پہلے اکٹھے رہو، ایک دوسرے کو سمجھو، اس نصیحت پر غور کرو جس کے تحت تم نے اپنے نکاح کا عہد و پیمان کیا ہے کہ تقویٰ پر چلنا ہے، پھر سب کچھ کر گزرنے کے بعد بھی اگر نفرتوں میں اضافہ ہورہا ہے تو کوئی انتہائی قدم اٹھاؤ اور اس کے لئے بھی پہلے یہ حکم ہے کہ آپس میں حکمین مقرر کرو، رشتہ دار ڈالو سوچو، غور کرو۔دونوں طرف کے فریقوں کو مختلف قسم کے احکام ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے، گو بہت کم ہے لیکن بعض لڑکیوں کی طرف سے بھی پہلے دن سے ہی یہ مطالبہ آ جاتا ہے کہ ہماری شادی تو ہو گئی لیکن ہم نے اس کے ساتھ نہیں رہنا۔جب تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ لڑکے یا لڑکی نے ماں باپ کے دباؤ میں آکر شادی تو کر لی تھی ورنہ وہ کہیں اور شادی کرنا چاہتے تھے۔تو ماں باپ کو بھی سوچنا چاہئے اور دو زندگیوں کو اس طرح بر باد نہیں کرنا چاہئے۔لیکن لڑکوں کی ایک خاص تعداد ہے جو پاکستان ، ہندوستان وغیرہ سے شادی ہو کر ان ملکوں میں آتے ہیں اور یہاں آ کر جب کاغذات پکے ہو جاتے ہیں تو لڑکی سے نباہ نہ کرنے کے بہانے تلاش کرنے شروع کر دیتے ہیں ، اس پر ظلم اور زیادتیاں شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء: 20) کہ ان سے نیک سلوک کے kh5-030425