خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 556

556 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم دیکھیں کہ اس وقت کس مطالبے کی طرف یا کتنے مطالبات کی طرف اپنے مقامی حالات کے لحاظ سے خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس سے جہاں معاشی اور معاشرتی مسائل حل ہوں گے وہاں جماعتوں میں تربیت اور قربانی کے معیار بھی بڑھیں گے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی میں ایک بچے احمدی کی روح پیدا فرمائے۔اب میں کچھ کوائف پیش کرتا ہوں۔تحریک جدید کا یہ سال جو اکتوبر میں ختم ہوا ہے، اس میں جماعتوں کی طرف سے جو رپورٹس آئی ہیں ( تقریباً بڑی جماعتوں کی رپورٹس تو آہی جاتی ہیں ، بعض دفعہ چھوٹی جماعتیں رہ جاتی ہیں)۔اس کے مطابق تحریک جدید کی کل وصولی 35لاکھ پانچ ہزار پاؤنڈ کی ہے۔الحمد للہ۔اور اللہ کے فضل سے جماعتوں کی مجموعی رپورٹ میں وصولی کے لحاظ سے پاکستان نمبر ایک پہ ہے، پھر امریکہ ہے، پھر تیسرے نمبر پہ برطانیہ، پھر جرمنی، پھر کینیڈا، پھر انڈونیشیا، پھر ہندوستان، آسٹریلیا، بیلجیئم، ماریشس اور سوئٹزر لینڈ۔افریقہ کے ممالک میں نائیجیر یا پہلے نمبر پر ہے۔لیکن غانا کی طرف سے میرا خیال ہے رپورٹ نہیں آئی، غانا والوں کو بھی ذرا تھوڑا سا اپنے آپ کو ایکٹو (Active) کرنا چاہئے۔ایک میدان میں ذرا تیز ہوتے ہیں تو دوسرے میدان کو بھول جاتے ہیں۔جماعتوں میں رپورٹیں بھجوانے کی جو کمزوری ہے اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور با قاعدہ رپورٹس بھجوایا کریں۔چندہ تحریک جدید ادا کرنے والوں کی جو تعداد ہے، اس میں جو افراد شامل ہوئے ان کی تعداد 4 لاکھ 82 ہزار 460 ہے، جو گزشتہ سال سے 40 ہزار زیادہ ہے۔اسی طرح دفتر اول کا میں نے اعلان کیا تھا کہ اس میں کھاتے جاری کئے جائیں تو اللہ کے فضل سے تمام کھانہ جات جاری ہو چکے ہیں۔پاکستان والوں کا اول دوم سوم کا ایک علیحدہ مقابلہ بھی ہوتا ہے۔(پاکستانی خاص طور پر بڑے شوق سے سن رہے ہوتے ہیں) تو پاکستان کی جماعتوں میں راولپنڈی اور پھر اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان، کوئٹہ، کنری۔یہ کنری چھوٹی سی جماعت ہے اور غریب بھی ہے، ان لوگوں کی آمد کا معیار اتنا اچھا نہیں ہے۔کچھ کاروباری ہیں اور کچھ زمیندار بھی ہیں، یہاں پانی کی بہت کمی رہتی ہے اس کے باوجود میرے خیال میں ان لوگوں کی قربانی کا معیار اللہ کے فضل سے بہت اچھا ہے۔پھر پشاور ہے، پھر بہاولپور ہے، خانیوال ہے، ڈیرہ غازی خاں ہے۔اور ضلعوں میں سیالکوٹ، سرگودھا، گوجرانوالہ، میر پورخاص، شیخوپورہ، بہاولنگر ، حیدرآباد، نارووال، اوکاڑہ ،سانگھڑ اور قصور۔اس دفعہ میں نے یہاں یو کے کا بھی تھوڑ اسا جائزہ لیا ہے۔آپ کو بھی ذرا تھوڑا سا جھنجوڑا جائے۔دیکھتے ہیں اس جائزے کے بعد آپ شرمندہ ہوتے ہیں یا مجھے شرمندہ ہونا پڑے گا۔بریڈ فوڈ کا جو جائزہ سامنے آیا ہے ان کی وصولی گزشتہ سال 14 ہزار 500 پاؤنڈ تھی ، اس سال پچھلے سال سے ایک ہزار پاؤنڈ کم kh5-030425