خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 544
خطبات مسرور جلد چهارم 544 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 2006 ء تھے اس لئے اس وقت ان کے مخالفین کو کہا جائے گا کہ جن سے تم ہنسی ٹھٹھا کرتے تھے آج یہ کامیاب ہیں اور تم ذلیل ہو کر جہنم کی آگ میں پڑے ہوئے ہو۔اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرنے کیلئے آج کل جو دعائیں پڑھنی چاہئیں ان میں یہ دعا بھی ہے۔رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِيْنَ۔اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے پس تو ہمیں بخش دے، ہم پر رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سے بہترین ہے۔پس جو مومن دعا کرتے ہوئے اور مخالفین کے ہنسی ٹھٹھے تکلیفوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایمان لانے پر خوش ہے اور استقامت دکھاتا ہے اور اس یقین پر قائم ہے کہ خدا تعالیٰ یہاں اور اگلے جہان میں اس ایمان پر قائم رہنے کی بہترین جزا دے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو پورا فرما تا ہے اور وعدے کو پورا فرماتے ہوئے ضرور رحم فرمائے گا اور بخشش کے سامان فرمائے گا۔اللہ کے راستے میں کی گئی قربانیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ دعاؤں کی طرف بہت زیادہ زور دیں، توجہ دیں۔یہ جو رمضان کے بعد کے دن ہیں، یہ مہینہ جو شوال کا مہینہ کہلاتا ہے اس کی بھی اس لحاظ سے اہمیت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں عموماً شروع کے چھ دن روزے رکھا کرتے تھے اور یوں رمضان کے روزے ملا کر پینتیس یا چھتیں روزے پورے سال کے قائمقام روزے بن جاتے ہیں۔گویا یہ فلی روزے بھی اللہ کی مغفرت اور رحمت کے کھینچنے کا ذریعہ ہیں اور سنت ہیں۔ان دنوں میں بھی بہت سے احمدی روزے رکھتے ہیں۔تو خاص طور پر جماعت کے لئے بھی دعاؤں پر بہت زور دیں اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کو جذب کرنے کی طرف بھی توجہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔و صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے کہ نوافل سے مومن میرا مقرب ہو جاتا ہے۔ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل۔یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں تا کہ فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تو نوافل سے پوری ہو جاوے۔لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں۔نہیں یہ بات نہیں ہے۔ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔انسان زکوۃ دیتا ہے تو کبھی زکوۃ کے سوا بھی دے۔رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے۔قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے“۔یعنی کسی سے قرض لیا ہے تو جب قرض کی واپسی کرنی ہے تو ساتھ کچھ زائد بھی دو ” کیونکہ اس نے مروت کی ہے۔قرض دینے والے نے مروت کی تھی۔فرمایا: نوافل متم فرائض ہوتے ہیں۔نفل کے وقت دل میں ایک خشوع اور خوف ہوتا ہے کہ فرائض میں جو قصور ہوا ہے وہ پورا ہو جائے۔یہی وہ راز ہے جو نوافل کو قرب الہی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے گویا kh5-030425