خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 538
خطبات مسرور جلد چهارم 538 خطبہ جمعہ 20 /اکتوبر 2006ء اللہ کرے کہ ہم رمضان سے ان دعاؤں کی قبولیت کے نظارے دیکھتے ہوئے نکلیں اور خالص اللہ کے ہو جائیں اور صرف اللہ کے ہو جائیں اور جو دنیا کی لہو ولعب ہے اسکی ہمارے سامنے مٹی کی ایک چٹکی کے برابر بھی قیمت نہ ہو۔خطبہ ثانیہ میں حضور انور نے فرمایا:۔ایک افسوسناک خبر ہے۔سری لنکا کی مسجد کے ہمارے خادم مسجد عبداللہ نیاز صاحب کو 14 اکتوبر کو مخالفین دشمنوں نے شہید کردیا۔انالله و انا اليه راجعون۔ان کی والدہ ابھی زندہ ہیں جن کی عمر 6 9 سال ہے اور ان کے تین بیٹے ، ایک بیٹی اور بیوہ ہیں۔یہ خادم مسجد کے طور پر خدمت سرانجام دے رہے تھے اور بڑی سنجیدگی سے اور وقف کی روح کے ساتھ کام کرتے تھے۔مسجد کو کھولنا، بند کرنا ، صفائی اور اذانیں وغیرہ دینا۔بچوں کو قرآن کریم ناظرہ بھی پڑھاتے تھے۔14 اکتوبر کو صبح 4 بجے مخالفین نے ان کی رہائش گاہ کے نزدیک ہی چاقوؤں اور تلواروں سے حملہ کر کے ان کو شہید کر دیا، یہ اس وقت نماز کے لئے مسجد آ رہے تھے۔وہاں بھی آج کل بڑی رو چلی ہوئی ہے ، پاکستان سے ایک مولوی لٹریچر اور ٹرینینگ وغیرہ لے کر آیا ہے اور مسلمانوں کو خوب بھڑ کا رہا ہے کہ یہ مرتد لوگ ہیں ان کو قتل کرو یہ ثواب ہے اور سب سے بڑا جہاد یہی ہے۔اس رمضان میں اللہ کی رضا حاصل کرنی ہے تو ان احمد یوں کو قتل کر دو۔اور وہ خود عمرہ پر چلا گیا ہے اور ان کو تاریخ دے گیا ہے کہ 30 یا 31 اکتوبر کو میں واپس آؤں گا، اس وقت تک احمدیوں کے جتنے بڑے بڑے عہدیداران ہیں ان کو شہید کر دو ( وہ تو خیر قتل کرنا ہی کہتے ہیں) پھر جب میں واپس آ جاؤں گا تو ان کی مسجد پر قبضہ کریں گے۔تو بہر حال یہ ان کے منصوبے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ہر شر سے جماعت کو محفوظ رکھے اور ان کے منصوبوں سے بچائے۔جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے عقل مقدر کی ہوئی ہے اور ماننا مقدر ہے ان کو عقل آ جائے ورنہ پھر عبرت کا نشان بنائے۔پھر ہمارے ایک پاکستانی احمدی آجکل وہاں گئے ہوئے ہیں، 21 سالہ نوجوان ہیں گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں ان پر بھی حملہ ہوا تھا۔وہ مسجد سے گھر آرہے تھے تو ان پر بھی چاقوؤں اور تلواروں سے حملہ کیا۔ان کے دونوں ہاتھ زخمی ہو گئے ، لوگ پہنچ گئے۔بہر حال ان کو بچا لیا۔کسی طرح سے بچت ہو گئی۔ہسپتال میں داخل ہیں علاج ہو رہا ہے۔ان کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا:۔ابھی میں جمعہ کی نماز کے بعد شہید کا نماز جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔kh5-030425