خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 537
خطبات مسرور جلد چهارم 537 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2006 ء وَجَهْلِي وَجِدَى وَكُلُّ ذلِكَ عِنْدِى اللّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَ مَا أَعْلَنْتُ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَاَنْتَ عَلى كُلّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔(بخاری کتاب الدعوات باب قول النبي صلى الله عليه وسلم اللهم اغفرلى) کہ اے میرے رب! میری خطائیں، میری جہانتیں، میری تمام معاملات میں زیادتیاں جو تو مجھے سے زیادہ جانتا ہے مجھے بخش دے۔اے میرے اللہ ! مجھے میری خطائیں ، میری عمداً کی گئی غلطیاں، جہالت اور سنجیدگی سے ہونے والی میری غلطیاں مجھے معاف فرما دے اور یہ سب میری طرف سے ہوئی ہیں۔اے اللہ ! مجھے میرے وہ گناہ بخش دے جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو مجھ سے بعد میں سرزد ہوئے ہیں اور جو میں چھپ کے کر چکا ہوں اور جو میں اعلانیہ کر چکا ہوں۔مقدم و مؤخر تو ہی ہے اور تو ہر ایک چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔پس اللہ ہی ہے جو ہمیں معاف رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ان دنوں میں اگر بچے اور کھرے ہو کر اس کے آگے جھکیں گے تو یقیناوہ طاقت اور قدرت رکھتا ہے کہ ہماری کایا پلٹ دے اور قبولیت دعا کا ایک لمحہ بھی ہماری دنیا اور آخرت سنوار نے والا بن جائے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا ہے آپ فرماتے ہیں۔”خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ ہم تیرے گناہگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے۔تو ہم کو معاف کر اور دنیا اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 44 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس جو غلطیاں ہو چکی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلائے اور ہر شر سے ہمیں اور ہماری نسلوں کو محفوظ رکھے۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں ”دعا بہت کرتے رہو اور عاجزی کو اپنی خصلت بناؤ۔جوصرف رسم اور عادت کے طور پر زبان سے دعا کی جاتی ہے کچھ بھی چیز نہیں۔جب دعا کرو تو بجر صلوٰۃ فرض کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جاؤ۔“ جو فرض نمازیں ہیں ان کے علاوہ بھی یہ عادت بناؤ کہ علیحدگی میں نفل پڑھو اور پھر ذکر الہی کرو اور اپنی زبان میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنیٰ سے ادنی بندہ ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرو۔اور فرمایا کہ اے رب العالمین ! تیرے احسان کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت رحیم و کریم ہے اور تیرے بے انتہا مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو۔اور میری پردہ پوشی فرما۔اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جاوے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا و آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔“ (مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر چہارم صفحہ 6۔5) 66 kh5-030425