خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 532
خطبات مسرور جلد چهارم 532 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2006 ء لوگوں کے دل پھر اللہ تعالیٰ سخت کر دیتا ہے اور ان کے اپنے عمل کی وجہ سے یہ چیز پیدا ہو رہی ہوتی ہے، جمعہ سے لا پرواہی کی وجہ سے یہ چیز پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔دیکھ لیں کہ یہاں لگا تار تین جمعے چھوڑنے پر انذار کیا ہے، رمضان کا آخری جمعہ چھوڑنے کا یہاں ذکر نہیں ہے۔یعنی جو لگا تا رتین جمعے چھوڑے گا اس کا دل سخت ہو جاتا ہے، اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔یہ نہیں کہا گیا کہ جو رمضان کا آخری جمعہ چھوڑتا ہے یا لگا تار تین رمضان آخری جمعہ پر نہ جائے تو اس کا دل سخت ہوگا۔اس لئے جمعہ کی اہمیت کو بہت زیادہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور اس کے علاوہ اپنی ہر قسم کی عبادتوں کو زندہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ جو بہت زیادہ بخشنہار ہے، اس سے اپنے گناہوں کے بخشوانے اور اس کے فضلوں کو حاصل کرنے والے اور اس کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر انسان کبائر گناہ سے بچے تو پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور رمضان - اگلا رمضان ان دونوں کے درمیان ہونے والی لغزشوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔(الترغيب والترهيب كتاب الجمعة باب الترغيب فى صلاة الجمعة و السعى اليها یعنی اگر انسان بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہے تو ان چھوٹی موٹی غلطیوں سے اور لغزشوں سے اور گناہوں سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے اس عمل کی وجہ سے صرف نظر فرماتا رہے گا جو وہ اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے ، اپنی نمازوں کی طرف توجہ دیتے ہوئے اور جمعہ پر باقاعدگی اختیار کرتے ہوئے اور پھر رمضان کے روزے رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ہر نماز پڑھنے کے بعد جب اگلی نماز کا انتظار ہو اور انگلی نماز انسان پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس دوران کی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے، پھر ہفتے کے دوران جو غلطیاں ہوں وہ جمعہ کے جمعہ معاف فرما دیتا ہے۔اسی طرح اگر سال کے دوران کچھ غلطیاں ہیں تو رمضان میں اللہ تعالیٰ بخشش کے دروازے کھولتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے۔تو دیکھیں یہاں صرف جمعہ کا یا جمعۃ الوداع کا ذکر نہیں بلکہ روزانہ نمازوں کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔پھر ہر جمعہ کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔یہاں یہ نہیں لکھا ہوا، جس طرح بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قضائے عمری پڑھ لی تو گناہ معاف ہو گئے ، اسی طرح جمعتہ الوداع پڑھ لیا تو گناہ معاف ہو گئے۔بلکہ ہر جمعہ جو ہے وہ اگلے جمعہ تک کی غلطیوں کا کفارہ بنتا ہے۔پھر جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ جمعہ پر آنے جانے اور خطبہ سننے میں زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو گھنٹے لگتے ہیں کیونکہ جو مسجدوں کے قریب کے لوگ ہیں وہی آئے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تھوڑ اسا وقت ہے، جب تم جمعہ ادا کر چکو تو بے شک اپنے کاموں پر چلے جاؤ اور جو اپنے دنیاوی کام ہیں وہ سارے کرو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔اللہ تعالیٰ نے یہ دنیاوی نعمتیں اور یہ کاروبار جو صحیح کاروبار ہیں تمہیں kh5-030425