خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 531 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 531

خطبات مسرور جلد چهارم 531 خطبہ جمعہ 20 /اکتوبر 2006 ء جمعہ پر تم جو ستی دکھاتے ہو اور بے احتیاطی کرتے ہو یہ اپنی بے علمی کی وجہ سے کرتے ہو۔اگر تمہیں علم ہو کہ اس کے کتنے فوائد ہیں اور اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے فضلوں سے نوازے گا تو اتنی سستیاں اور بے احتیاطیاں کبھی نہ ہوں اور سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کبھی یہ بے احتیاطی ہو بلکہ ہمیشہ اس کوشش میں رہو گے کہ اونٹ یا گائے کی قربانی کا ثواب حاصل کرو۔پس ہر احمدی کو ہمیشہ جمعہ کی اہمیت کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور چھوٹے چھوٹے بہانے تراش کر یا تلاش کر کے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حکم عدولی نہیں کرنی چاہئے۔جمعہ کا خطبہ اور نماز آنے جانے سمیت زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا معاملہ ہے۔اور بعض لوگ جو دوسرے کام ہیں ان میں بغیر کام کے ہی بے تحاشا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔مکرم حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ایک بات مجھے یاد آئی ، یہیں کہیں کسی مغربی ملک میں ان کا غیروں میں لیکچر تھا ، جگہ کونسی تھی یہ تو مجھے پوری طرح مستحضر نہیں لیکن بہر حال وہاں انہوں نے اسلامی عبادات کا ذکر فرمایا اور جمعہ کی مثال بھی دی کہ ہفتے بعد جمعہ ایک لازمی عبادت ہے، اس کے متعلق حکم ہے کہ ضرور پڑھو۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ بہت بڑا بوجھ ہے۔انہوں نے فرمایا کہ اس میں کتنا وقت لگ جاتا ہے؟ پھر انہوں نے وقت کی مثال اس طرح دی کہ جتنا وقت دو برج (Bridge) کھیلنے والے اپنی اس برج کی کھیل کو ختم کرنے میں لگاتے ہیں اس سے کم وقت اس میں لگتا ہے۔یہ برج جو ہے یہ بھی تاش کھیلنے کی ایک قسم ہے۔تو لہو ولعب کی طرف تو توجہ ہو جاتی ہے، جمعہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔پس دنیا داروں کو سمجھانے کے لئے انہوں نے اس کی مثال دی تھی۔اسی طرح دوسری بے فائدہ کھیلیں ہیں، بعض گئیں ہانکنے میں وقت لگا دیتے ہیں، بیٹھے رہتے ہیں لیکن جمعہ پر آنے کے لئے سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اتنا وقت ہوگا ، جائیں گے، بیٹھنا پڑے گا، خطبہ لمبا ہو گیا تو کیا کریں گے۔جماعت پر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی نہ کوئی ضرور نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔بعض عورتیں اور لڑکیاں بڑی فکر سے اپنے خاوندوں کے بارے میں دعا کے لئے بھتی ہیں کہ ہمارے میاں کو جمعہ پر جانے کی عادت نہیں اور اکثر بہانے بنا کر جمعہ ضائع کر رہے ہوتے ہیں، کوئی وجہ نہیں ہوتی۔دعا کریں کہ جمعہ پر جانے کی عادت پڑ جائے۔ایک حدیث میں جمعہ ضائع کرنے والوں کے بارے میں آتا ہے، جس میں جمعہ کی اہمیت اور جمعہ نہ پڑھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ذکر ہے۔حضرت ابو جعد ضمری روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تساہل کرتے ہوئے لگاتار تین جمعے چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔(سنن ابی داؤد كتاب الصلواة باب التشدد في ترك الجمعة ) اب دیکھیں کس قدر انذار ہے، جمعہ چھوڑنے کے کس قدر بھیا نک نتائج پیدا ہورہے ہیں۔ایسے kh5-030425