خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 530 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 530

530 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2006 ء یہ خیال دل میں نہ لاؤ کہ تھوڑ اسا یہ کام رہتا ہے اسے پورا کر لوں پھر جاتا ہوں۔یہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خطبہ شروع ہونے کے وقت اس مسجد کا ہال نصف سے بھی کم بھرا ہوتا ہے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ لوگ آنا شروع ہوتے ہیں اور جگہ بھرتی چلی جاتی ہے۔صرف یہاں نہیں ، باقی دنیا میں بھی یہی حال ہے بلکہ بعض لوگ خطبہ ثانیہ کے دوران آرہے ہوتے ہیں۔بعض کو تو کام سے رخصت کی مجبوریاں ہیں، بعض کو بعض دفعہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن بعض عادی بھی ہوتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ جتنا دیر سے جاسکیں ، جتنا لیٹ جا سکیں جایا جائے تاکہ نماز میں شامل ہو کر فوری واپس آجائیں یا تھوڑا سا خطبے کا حصہ سن لیں تو یہی کافی ہے۔حالانکہ حدیث میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ سب سے پہلے آنے والے کو پہلا لکھتے ہیں اور پہلے آنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اونٹ کی قربانی کرے۔پھر بعد میں آنے والا اس کی طرح ہے جو گائے کی قربانی کرے، پھر مینڈھا یعنی بھیڑ بکرا، پھر مرغی اور پھر انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح، پھر جب امام منبر پر آ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور ذکر کو سننا شروع کر دیتے ہیں۔(بخاری كتاب الجمعة باب الاستماع الى الخطبة يوم الجمعة تو دیکھیں جمعہ کے لئے جلدی آنے کی اہمیت کس طرح واضح فرمائی۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ بعض کام کرنے والے لوگ ایسے ہیں جن کو مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن ایک ایسی تعداد بھی ہے جس میں یہ احساس ہی نہیں ہے کہ جمعہ پہ وقت پر جانا ہے۔اکثر یہاں بہت سارے لوگ میرے سامنے مسجد کے اگلے حصے میں بیٹھے ہوتے ہیں، تقریباً نوے فیصد شاید وہی چہرے ہوتے ہیں اور آج بھی وہی ہیں۔ان میں سے بعض کو میں جانتا ہوں وہ کام بھی کرتے ہیں اور عموماً یہاں اکثر لوگ اپنے کام کر رہے ہیں، کوئی ٹیکسی چلا رہا ہے کوئی دوسرے کام کر رہا ہے۔تو یہ جلدی آنے والے بھی اور لیٹ آنے والے بھی اور نہ آنے والے بھی ، ان کے کاموں کی نوعیت تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے، تو وقت پر نہ آنا صرف نفس کا بہانہ ہے۔آخر جو وقت پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں، یہ بھی تو اپنے کام کا حرج کر کے آ رہے ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو یا درکھیں کہ جمعہ کی نماز پر جلدی آؤ اور اپنی تجارت، اپنے کاروبار اور اپنے کام چھوڑ دیا کرو اور ہمیشہ یادرکھو کہ رزق دینے والی ذات خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ، بظاہر نقصان اٹھاتے ہوئے بھی جمعہ کے لئے آؤ گے تو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا فرما دے گا کہ جس نقصان سے تم ڈر رہے ہو وہ نہیں ہو گا اور اگر بالفرض کہیں کوئی تھوڑی بہت کمی رہ بھی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے تمہیں اور ذریعوں سے برکتوں سے بھر دے گا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔kh5-030425