خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 528

خطبات مسرور جلد چهارم 528 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 2006 ء بقیہ دنوں میں ہی اگر سچے دل سے کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بن سکتے ہیں۔کیونکہ خالص ہو کر اس کی راہ میں گزرا ہوا ایک لمحہ بھی انسان کی کایا پلٹ سکتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی طرف آنے والے کو ماں باپ سے بھی زیادہ بڑھ کر پیار کرتا ہے۔وہ جب اپنے بندے کو اپنے ساتھ چمٹاتا ہے تو وہ بندہ وہ نہیں رہتا جو پہلے تھا۔اس ایک بچے اور خالص لمحے کی دعا انسان کو برائیوں سے اتنا دور لے جاتی ہے، اس کی طبیعت میں اتنا فرق ڈال دیتی ہے جو مَشْرِقین کا فرق ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات سے مایوسی کا تو کوئی سوال ہی نہیں ، صرف ان راستوں پر چلنے کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کو پانے کے راستے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو پانے کے وہ اسلوب سیکھنے کی ضرورت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائے جو ایک عرصے سے بھولی بسری یادیں بن چکے تھے اور جن کو دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے رکھا۔پس ہم وہ خوش قسمت ہیں جو اس امام کو ماننے والے ہیں جس نے ان راستوں کو صاف کر کے ہماری ان کی طرف راہنمائی فرمائی۔ہمارے ذہنوں کی گرد بھی جھاڑی جس سے بدعات اور غلط روایات سے ہمارے ذہن پاک و صاف ہوئے ، جس میں آجکل غیر احمدی معاشرہ ڈوبا ہوا ہے۔بہت ساری غلط روایات ہیں جو ان میں راہ پکڑ گئی ہیں، بدعات کا دخل ہو گیا ہے جس سے ان کی بعض باتیں اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھی کوسوں دور چلی گئی ہیں اور ان باتوں میں ایک جمعتہ الوداع کا تصور بھی ہے۔جبکہ قرآن کریم اور احادیث میں جمعۃ الوداع کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ہاں جمعہ کی اہمیت ہے اور بہت اہمیت ہے، جس کا میں ان آیات کی روشنی میں جو میں نے تلاوت کی ہیں اور احادیث کی روشنی میں ذکر کروں گا۔لیکن اس سے پہلے میں نہایت افسوس سے اس بات کا ذکر کروں گا کہ امام الزمان کی بیعت میں آنے کے با وجود اور باوجود اس کے کہ خلفاء احمدیت اس تصور کو ذہنوں سے نکالنے کے لئے بارہا اس طرف توجہ دلا چکے ہیں بعض احمدی بھی معاشرے کی اس برائی اور بدعت کا شکار ہو کر جمعہ کی اہمیت کو بھلا کر جمعۃ الوداع کا تصور ذہنوں میں بٹھائے ہوئے ہیں۔اور ایسے لوگ چاہے زبان سے اس بات کا اقرار کریں یا نہ کریں اپنے حال سے، اپنے عمل سے یہ اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔عموماً سارا سال مساجد میں جمعوں پر جو حاضری ہوتی ہے، رمضان کے دنوں میں خاص قسم کا ماحول بنے کی وجہ سے جمعوں میں حاضری اس سے بہت بہتر ہو جاتی ہے۔لیکن رمضان کے آخری جمعہ میں یہ حاضری رمضان کے باقی جمعوں کی نسبت بہت آگے بڑھ جاتی ہے جس سے صاف ظاہر ہورہا ہوتا ہے کہ آج توجہ زیادہ ہے۔یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مرکز میں یا جہاں خلیفہ وقت نماز جمعہ پڑھا رہے ہوں وہاں اس جمعے میں شامل ہونے کی لوگ زیادہ کوشش کرتے ہیں kh5-030425