خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 521

خطبات مسرور جلد چهارم 521 خطبہ جمعہ 13 /اکتوبر 2006 ء صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تھے تو ان کی اکثر دعا کیا ہوا کرتی تھی ؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلَى دِيْنِكَ۔(سنن ترمذی کتاب الدعوات باب في عقد التسبيح باليد) اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم کر دے۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کثرت سے دعائیں کیں کہ ہم کو ان میں سے کچھ بھی یاد نہ رہا۔چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ نے بہت سی دعائیں کی ہیں مگر ہمیں تو ان دعاؤں میں سے کچھ بھی یاد نہیں رہا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی دُعا نہ بتا دوں جو ان سب دعاؤں کی جامع ہے۔پھر فرمایا کہ تم لوگ یہ دعا کیا کرو اللَّهُمَّ اِنَّانَسْتَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ وَ اَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَ عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله۔(سنن ترمذی کتاب الدعوات با ب في عقد التسبيح باليد) اے اللہ! ہم تجھ سے اس خیر کے طالب ہیں جس خیر کے طالب تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور ہم ہر اس شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے پناہ طلب کی تھی اور اصل مددگار تو ہی ہے اور تجھ ہی سے ہم دعائیں مانگتے ہیں اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ تو ہم نیکی کرنے کی طاقت پاتے ہیں اور نہ ہی شیطان کے حملوں سے بچنے کی قوت۔پھر ابو ہانی بتاتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمن الحُبلی سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، وہ دونوں کہتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا کہ تمام بنی نوع انسان کے دل خدائے رحمن کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں میں ایک دل کی مانند ہیں، وہ اسے جیسا چاہتا ہے پھیرتا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اللَّهُمَّ مُصَرِفَ الْقُلُوْبِ صَرِّق قُلُوْبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ۔(مسلم کتاب القدر باب تصريف الله تعالى القلوب كيف شاء اے دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت میں پھیر دے۔اطاعت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام کی اطاعت بھی ہے۔اس کے لئے خاص طور پر یہ دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔ظالموں کے ظلم سے نجات پانے کے لئے جو دعا آپ نے سکھائی اس کا ایک روایت میں ذکر آتا ہے۔خالد بن عمران روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم kh5-030425