خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 520

خطبات مسرور جلد چهارم 520 خطبہ جمعہ 13 /اکتوبر 2006ء فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الْقَوْمِ الْفَسِقِيْنَ (المائدہ : 26) ہمارے درمیان اور فاسق قوم کے درمیان فرق کر دے۔اس دعا کو بھی آجکل بہت پڑھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بھی عقل دے اور مسلمان ملکوں میں جماعت کے لئے راستے کھولے تا کہ ان کو صحیح طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچایا جا سکے اور اس راستے میں جو روکیں ہیں ، جو سختیاں ہیں جوان مسلمان کہلانے والوں نے احمدیوں پر روار کھی ہوئی ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سب کو دور فرمائے۔رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِيْنَ (آل عمران : 54) اے ہمارے رب ہم اس پر ایمان لے آئے جو تو نے اتارا اور ہم نے رسول کی پیروی کی۔پس ہمیں حق کی گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔اور یہ بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ ہمیں استقامت عطا فرمائے اور ہم ہمیشہ اس پر قائم رہیں۔رَبِّ اَعُوْذُبِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّيطِيْنِ وَ اَعُوْذُبِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُوْنِ (المؤمنون: 98, 99) اے میرے رب میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے رب کہ وہ میرے قریب پھٹکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے لے کر اب تک ہمیشہ شیطانوں نے وسوسے ڈالنے کی کوشش کی ہے۔مسلم امت میں جن لوگوں کے پاس منبر تھا، جولوگ بظاہر نام نہاد دین کے علمبردار سمجھے جاتے تھے ان لوگوں نے امت کو ورغلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے اور یہی لوگ ہیں جنہوں نے اس قسم کے وسوسے ڈال کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف نفرتوں کی دیواریں کھڑی کی ہیں۔اس لئے ان لوگوں کے وسوسوں سے جو شیطانوں کا رول ادا کر رہے ہیں ہمیشہ پناہ مانگنی چاہئے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض دعائیں ہیں۔حضرت ابو بردہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کی طرف سے خوف محسوس کرتے تھے تو ان الفاظ میں دعا کرتے تھے کہ اَللّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِى نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ (سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب ما يقول الرجل اذا خاف قوما) کہ اے اللہ ہم تجھے ان کے سینوں کے مقابل پر رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔یعنی ہم ان کے شر سے تیری حفاظت میں آتے ہیں۔ثبات قدم کے لئے، دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سکھائی۔شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام سلمی رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ اے ام المومنین جب رسول اللہ kh5-030425